پاکستان مقبوضہ کشمیر: بلاول بھٹو نے انتخابات میں بے ضابطگی کا لگایا الزام، مریم نواز نے کہا ’رونے دھونے سے کچھ نہیں ہوگا‘

مریم نواز نے کہا کہ جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے تمام سیاسی پارٹیوں کو عوامی مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے۔ پیپلز پارٹی کو اپنی کارکردگی کا جائزہ لے کر خود احتسابی کرنی چاہیے۔

<div class="paragraphs"><p>بلاول بھٹو اور مریم نواز، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

پاکستان مقبوضہ کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج سامنے آنے کے بعد سیاسی ہنگامہ آرائی تیز ہو گئی ہے۔ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے ان پر عائد کیے گئے بے ضابطگی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’پیپلز پارٹی کو اپنی شکست کشادہ دلی کے ساتھ قبول کرنی چاہیے۔‘‘ ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ’’رونے دھونے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو اپنی شکست کھلے دل سے قبول کرنی چاہیے۔ انتخابات کا فیصلہ عوام کرتے ہیں، ریاست نہیں۔ دھاندلی کے الزامات لگانے والوں کا اپنا ریکارڈ بھی انتخابی بے ضابطگیوں سے جڑا رہا ہے۔‘‘

مریم نواز کے بیان سے قبل بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھائے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو عوامی ووٹ اور حمایت کی بنیاد پر اکثریت حاصل ہونی چاہیے تھی، لیکن انتخابی عمل پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ بلاول نے یہ بھی کہا تھا کہ ریاست کو یہ طے کرنا ہوگا کہ قومی مفاد زیادہ اہم ہے یا پھر پاکستان مسلم لیگ (ن) کا مفاد۔ دراصل ابتدائی نتائج کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے انتخابات میں پی ایم ایل-این نے 9 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کو میرپور خطے کی 13 نشستوں میں سے 4 نشستوں پر کامیابی ملی ہے۔


مریم نواز نے دھاندلی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ایم ایل-این کے امیدواروں کے خلاف کسی بھی قسم کی انتخابی بے ضابطگی کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے تمام سیاسی پارٹیوں کو عوامی مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے۔ پیپلز پارٹی کو اپنی کارکردگی کا جائزہ لے کر خود احتسابی کرنی چاہیے۔ مریم نے پیپلز پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ میں گزشتہ 17 برس سے پاکستان پیپلز پارٹی برسر اقتدار ہے۔ اس کے باوجود پارٹی صفائی، امن و قانون کی صورتحال اور سڑکوں جیسی بنیادی سہولتوں میں بہتری لانے میں ناکام رہی ہے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ بلاول اپنے انتخابی مہم کے دوران سندھ حکومت کی کامیابیاں گنوانے یا مستقبل کا کوئی واضح لائحۂ عمل پیش کرنے میں ناکام رہے۔

مریم نواز کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عوام کے لیے بہتر طبی سہولتیں اور ترقی چاہتی ہے۔ پی ایم ایل-این کو ملنے والے عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے ان کی حکومت عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرے گی۔ ادھر پاکستان کے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی پیپلز پارٹی کے دھاندلی کے الزامات کو غیر جمہوری اور نامناسب قرار دیا۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے بھی پی ایم ایل-این کی کامیابی کو عوام کا واضح مینڈیٹ قرار دیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔