پاکستان-افغانستان جنگ میں اب تک تقریباً 500 شہریوں کی موت، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کچھ اہم انکشافات

وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اہلکاروں نے ملک کے مختلف حصوں میں صحت مراکز اور دکانوں کو ہدایت دی کہ وہ ایسی خواتین کو داخلے کی اجازت نہ دیں، جو کسی مرد رشتہ دار کے ساتھ نہ ہوں۔

<div class="paragraphs"><p>پاکستان اور افغانستان کا قومی پرچم</p></div>
i

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر جاری تصادموں کے سبب اکتوبر سے جون کے آخر تک افغانستان میں تقریباً 500 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ پاکستان-افغانستان جنگ کی وجہ سے سینکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اس بات کا انکشاف اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں ہوا ہے۔ منگل کے روز انسانی حقوق کی صورتحال پر جاری اپنی رپورٹ میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یو این اے ایم اے) نے بتایا کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان جاری تصادموں میں 499 شہری ہلاک اور 1,216 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی سطح پر امن کی کوششوں کے باوجود یہ تنازعہ مسلسل جاری ہے۔ ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فضائی حملہ کے ملبے سے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کرنے والے شہریوں پر دوبارہ حملہ کیا گیا۔ اس سے نقصانات میں اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں انسانی حقوق سے متعلق دیگر مسائل کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں مغربی افغانستان میں خواتین کے لباس پر عائد پابندیوں کے خلاف ہونے والے مظاہروں پر سخت کارروائی اور ایسے احکامات شامل ہیں، جو عملاً کم عمری کی شادی کو قانونی حیثیت دیتے ہیں۔


پاکستان اور افغانستان کے درمیان کئی ماہ سے رک رک کر تصادم کے واقعات جاری ہیں۔ فروری میں کشیدگی اس وقت کافی بڑھ گئی، جب افغانستان کی فورسز نے افغانستان کے اندر پاکستانی فضائی حملوں کے جواب میں پاکستان کے اندر کارروائی کی۔ اس کے بعد اسلام آباد نے اسے ’کھلی جنگ‘ قرار دیا۔ پاکستان کا الزام ہے کہ افغانستان ایسے دہشت گردوں کو پناہ دے رہا ہے، جو پاکستان میں مہلک حملے کرتے ہیں۔ ان حملوں میں گزشتہ کئی برسوں کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں خاص طور پر پاکستانی طالبان یعنی تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) شامل ہے۔ یہ تنظیم افغان طالبان کی اتحادی ہے، جس نے 2021 میں امریکہ کی قیادت والی افواج کے انخلا کے دوران افغانستان میں اقتدار سنبھالا تھا۔ کابل نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

اس تنازعہ کے سب سے مہلک حملے میں مارچ کے دوران پاکستانی فضائی حملے نے افغانستان کی راجدھانی کابل میں ایک منشیات سے بحالی کے مرکز کو نشانہ بنایا، جس میں سینکڑوں شہری ہلاک ہوئے تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گزشتہ ہفتہ کہا تھا کہ اس حملے کی تحقیقات ممکنہ جنگی جرم کے طور پر کی جانی چاہئیں۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ پاکستان نے اپنی سرزمین پر سرحد پار تصادم کے نتیجے میں ہونے والی شہری ہلاکتوں کی مجموعی تعداد جاری نہیں کی ہے۔ اقوام متحدہ کے مشن (یو این اے ایم اے) نے کہا کہ اسے صرف افغانستان کے اندر پیش آنے والے واقعات کی نگرانی کا اختیار حاصل ہے۔ یو این اے ایم اے کی رپورٹ پر تحریری جواب میں پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا کہ افغانستان کی طالبان حکومت اب بھی کئی دہشت گرد تنظیموں کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے۔ پاکستان کے جواب میں افغان شہریوں کی ہلاکتوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ اس میں کہا گیا کہ پاکستانی فوج کی کارروائیاں مکمل طور پر دہشت گردوں کے ان ٹھکانوں، پناہ گاہوں اور معاون ڈھانچے کو نشانہ بنا کر کی گئیں، جو پاکستان کے اندر حملوں کے ذمہ دار گروہوں سے وابستہ تھے۔


یو این اے ایم اے کی رپورٹ کے مطابق شہری ہلاکتوں کے ان واقعات میں 22 افراد، جن میں 5 بچے بھی شامل تھے، 28 جون کو مشرقی صوبہ پکتیا میں ایک رہائشی عمارت پر ہونے والے مسلسل 2 فضائی حملوں میں مارے گئے۔ اس حملے میں کم از کم 185 دیگر افراد زخمی ہوئے۔ بیشتر ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات دوسرے حملے میں پیش آئے۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا، جب مقامی لوگ پہلے حملے میں زخمی ہونے والوں کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ یو این اے ایم اے میں انسانی حقوق کی ڈائریکٹر فیونا فریزر نے کہا کہ ’’بین الاقوامی انسانی قانون طبی عملے اور انسانی امداد سے وابستہ افراد کو خصوصی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ان میں ابتدائی امدادی کارروائی کرنے والے افراد بھی شامل ہیں۔ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران ان پر حملے مکمل طور پر ممنوع ہیں۔‘‘

یو این اے ایم اے کی رپورٹ میں خواتین کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ افغانستان کی طالبان حکومت نے خواتین پر کئی سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ ان میں ابتدائی تعلیم سے آگے تعلیم حاصل کرنے پر پابندی، سخت لباس کے ضابطے، تقریباً تمام شعبوں میں کام کرنے پر پابندی اور گھر سے باہر نکلتے وقت کسی مرد رشتہ دار کا ساتھ ہونا لازمی قرار دینا شامل ہے۔ رپورٹ میں جون کے دوران مغربی شہر ہرات میں ہونے والی کارروائی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ یہاں لباس کے ضابطوں کی خلاف ورزی کے الزام میں کم از کم 30 خواتین کو گرفتار کیا گیا۔ حراست کے خلاف ہونے والے نایاب احتجاج کے دوران سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور کئی افراد زخمی ہوئے۔


خواتین کے لباس سے متعلق قواعد کے مطابق، وہ عوامی مقامات پر اسی صورت میں جا سکتی ہیں جب انہوں نے مکمل حجاب پہن رکھا ہو۔ اس میں سر ڈھانپنے کے لیے کپڑا اور پورے جسم کو ڈھانپنے والا لباس شامل ہے۔ اس کے ساتھ چہرہ بھی اس طرح ڈھانپنا ضروری ہے کہ صرف آنکھیں نظر آئیں۔ ان قواعد کی نگرانی وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اہلکار کرتے ہیں۔ تاہم ان قواعد کی تشریح اور درست طریقے سے حجاب پہننے کے بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں، اور ان پر منمانی انداز میں بھی عمل کرایا جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اہلکاروں نے ملک کے مختلف حصوں میں صحت مراکز اور دکانوں کا دورہ کیا اور انہیں ہدایت دی کہ وہ ایسی خواتین کو داخلے کی اجازت نہ دیں، جو کسی مرد رشتہ دار کے ساتھ نہ ہوں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔