عمران خان کے وزیر نے کشمیر ایشو پر ہندوستان کے حامی ممالک کو بھی دی حملے کی دھمکی

پاکستانی میڈیا کے مطابق وزیر علی امین نے کشمیر میں جاری ’ہندوستانی مظالم پر دنیا کی خاموشی‘ کو افسوسناک بتایا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر ہندوستان سے کشیدگی بڑھتی ہے تو مجبوراً جنگ کرنی ہوگی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

پاکستان نے ایک بار پھر ہندوستان کو جنگ کی دھمکی دی ہے۔ ہندوستان کے ساتھ ہی پاکستان نے کشمیر ایشو پر ہندوستان کا تعاون کرنے والے دوسرے ممالک کو بھی انجام بھگتنے کے لیے دھمکایا ہے۔ عمران خان حکومت کے ایک وزیر نے کشمیر ایشو پر ’دنیا کی خاموشی‘ پر سوال اٹھایا ہے اور جنگ کی دھمکی دے ڈالی ہے۔ کشمیر اور گلگٹ بلتستان معاملوں کے وزیر علی امین گنڈاپور نے کہا کہ جنگ ہوئی تو اگر پاکستان ایک میزائل ہندوستان پر چھوڑے گا تو دوسری میزائل اس کے حامی ملک پر۔ یہ بیان علی امین گنڈا پور نے ایک تقریب کے دوران دیا۔ اس بیان پر مبنی ان کا ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہا ہے۔

پاکستانی میڈیا میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق گنڈاپور نے کشمیر میں جاری ’ہندوستانی مظالم پر دنیا کی خاموشی‘ پر افسوس ظاہر کیا۔ اس کے بعد انھوں نے متنبہ کیا کہ ’’اگر کشمیر پر ہندوستان کے ساتھ کشیدگی بڑھتی ہے تو پاکستان جنگ کے لیے مجبور ہوگا۔ جو کشمیر معاملے میں ہندوستان کے ساتھ کھڑے ہیں، انھیں اس کا انجام بھگتنا ہوگا۔ اگر ایک میزائل ہندوستان پر داغی جائے گی تو دوسری اس کے حامی پر داغی جائے گی۔ انھیں اس کے لیے تیار رہنا ہی ہوگا۔‘‘

بعد میں ایک ٹی وی پروگرام میں گنڈاپور کی یہ بات اٹھی۔ ٹی وی اینکر نے ان سے پوچھا کہ ’’اگر کوئی مسلم ملک ہندوستان کی حمایت کرتا ہے تو کیا اس پر بھی میزائل داغی جائے گی؟‘‘ اس کے جواب میں گنڈاپور نے کہا ’’ہاں۔‘‘

ایسا پہلی بار نہیں ہے جب عمران حکومت کے کسی وزیر نے ہندوستان کو جنگ کی دھمکی دی ہے۔ پاکستان کے وزیر ریل شیخ رشید بھی کئی بار ہندوستان کو جنگ کی دھمکی دے چکے ہیں۔ پی ایم عمران نے بھی اشاروں اشاروں میں کئی بار ہندوستان کو جنگ کی دھمکی دی ہے۔ دراصل پاکستان کشمیر ایشو کو بین الاقوامی اسٹیج پر اٹھا چکا ہے لیکن اسے اب تک کسی ملک سے حمایت نہیں ملی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان بوکھلایا ہوا ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کا کہنا ہے کہ کشمیر ہندوستان کا داخلی معاملہ ہے، ایسے میں وہ اس تعلق سے کوئی مداخلت نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان اور ان کے وزیر اس طرح کے بیان دے رہے ہیں۔