ہندو مخالف بیان دینے پر پاکستانی وزیر مستعفی، عمر اور محبوبہ نے بتایا قابل تعریف قدم

پاکستان میں برسراقتدار عمران خان کی پارٹی ’پی ٹی آئی‘ نے وزیر برائے اطلاعات فیاض الحسن چوہان کو ان کے عہدہ سے ہٹا دیا اور واضح لفظوں میں کہا کہ وہ ہندو طبقہ کے خلاف نازیبا بیان کو برداشت نہیں کرے گی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

پاکستان کی عمران خان حکومت نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کو ان کے عہدہ سے ہٹا دیا ہے۔ یہ فیصلہ فیاض الحسن کے ذریعہ ہندوؤں کے متعلق نازیبا اور متنازعہ بیان دینے کی وجہ سے لیا گیا۔ بیان انھوں نے 24 فروری کو لاہور میں منعقد ایک تقریب کے دوران دیا تھا جس کے بعد سوشل میڈیا پر تو انھیں تنقید کا سامنا کرنا ہی پڑا تھا، ان کی اپنی پارٹی پی ٹی آئی (پاکستان تحریک انصاف) کے لیڈروں نے بھی ان کی پرزور مذمت کی تھی۔ پی ٹی آئی نے فیاض الحسن کو ان کے عہدہ سے منگل کے روز ہٹا دیا جس کی سوشل میڈیا پر تعریف بھی ہو رہی ہے۔

جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ نے بھی اس سلسلے میں ٹوئٹ کیا ہے اور پاکستان کے قدم کی تعریف کی ہے۔ پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ ’’ان کا (فیاض الحسن کا) بیان بدبختانہ تھا۔ لیکن یہ ٹھیک ہے کہ انھیں نکال دیا گیا۔ یہاں وزراء زیادہ مسلم مخالف اور فرقہ پرستانہ بیان دیتے ہیں۔‘‘ عمر عبداللہ نے اس تعلق سے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’پاکستان میں ایک وزیر کو ہٹا دیا گیا کیونکہ انھوں نے ہندوؤں کے خلاف بیان دیا تھا۔ ہندوستان میں تو ریاستی گورنر اس بات کے لیے ڈانٹتے بھی نہیں ہیں جب کوئی عوام سے کہتا ہے کہ کشمیری مسلمانوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔‘‘ انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ’’ہم اپنا موازنہ پاکستان سے کرنا پسند کرتے ہیں تو اس معاملے میں بھی ہمیں آپس میں موازنہ کرنا چاہیے۔‘‘

’ڈان‘ اخبار نے اس سلسلے میں ایک خبر شائع کی ہے جس میں پنجاب حلقہ کے وزیر اعلیٰ عثمان بجدار کے ترجمان شاہباز گل کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ چوہان نے زبردست تنقید کا سامنا کرنے کے بعد استعفیٰ دیا ہے، لیکن پی ٹی آئی کے آفیشیل ٹوئٹر ہینڈل پر کہا گیا ہے کہ انھیں ہٹایا گیا ہے۔ ساتھ ہی ٹوئٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ کسی کے عقائد پر حملہ کرنا کسی نظریہ کا حصہ نہیں ہو سکتا۔ ’ڈان‘ کے مطابق فیاض الحسن کو اپنی غلطی کا احساس اس وقت ہوا جب ان کے بیان کو وزیر اعظم عمران خان نے خود سنجیدگی سے لیا۔ دراصل فیاض الحسن نے 24 فروری کو لاہور کی تقریب میں ہندو طبقہ کو ’گئو موتر (پیشاب) والے لوگ‘ کہہ کر پکارا تھا۔

ذرائع کے مطابق لاہور کی تقریب میں فیاض الحسن نے ہندوؤں کے خلاف زہر اگلتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہم مسلم ہیں، ہمارا جھنڈا ہے جو مولا علی کی بہادری کی مثال، حضرت عمر کی بہادری کی مثال ہے۔ آپ کے (ہندو) پاس وہ جھنڈا نہیں ہے، وہ آپ کے ہاتھ میں نہیں ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’’اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ آپ ہم سے سات گنا بہتر ہیں۔ مورتی پوجنے والوں، ہمارے پاس جو ہے وہ آپ کے پاس نہیں ہے۔‘‘

فیاض الحسن چودھری کے متنازعہ بیان پر مبنی ویڈیو پیر کےر وز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی۔ ٹوئٹر یوزرس نے تو منگل کے روز ’سیک فیاض چوہان‘ ٹرینڈ کر حکومت سے انھیں ان کے عہدہ سے ہٹانے کی اپیل بھی کی تھی۔ پاکستان میں اقلیت ہندوؤں کے خلاف بیان دینے کے لیے پی ٹی آئی سے تنقید کا سامنا کرنے کے بعد فیاض الحسن نے معافی مانگی تھی اور کہا تھا کہ انھوں نے اپنا بیان صرف ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی اورہندوستانی میڈیا کے لیے دیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’’میں نریندر مودی، را، ہندوستانی میڈیا سے مخاطب تھا۔ وہ بیان پاکستان مین رہنے والے کسی شخص کے لیے نہیں تھا۔ میرا پیغام ہندوستانیوں کے لیے تھا۔‘‘ ساتھ ہی فیاض الحسن نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’میں نے کسی مذہب کو نیچا نہیں دکھایا۔ میں نے جو کہا وہ ہندوتوا کے لیے ہے۔‘‘

بعد ازاں عمران خان نے فیاض الحسن چوہان کے بیان کو غلط ٹھہرایا اور کہا کہ ’’ہم کسی اقلیتی طبقہ کے خلاف کوئی بیان برداشت نہیں کریں گے۔‘‘ سیاسی معاملوں میں عمران خان کے خصوصی معاون نعیم الحق نے ایک ٹوئٹ میں یہ بھی کہا تھا کہ ’’پی ٹی آئی حکومت کسی بھی سینئر وزیر یا کسی کے بھی ذریعہ ایسی بیہودہ بات کو برداشت نہیں کرے گی۔‘‘ پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے بھی ٹوئٹر پر کہا تھا کہ ’’پاکستان اپنے جھنڈے میں ہرے کے برابر سفید رنگ کو بھی اتنے ہی فخر سے جگہ دیتا ہے، ہندو طبقہ کے تعاون کا اعتراف کرتا ہے اور اپنے برابر عزت دیتا ہے۔‘‘