پاکستان: اشتہارات کے لیے خواتین کے انتخاب پر عمران خان کے مشیر کو اعتراض

اتوار کے روز جیو ٹی وی نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے مشیر مولانا طاہر اشرفی کے حوالے سے بتایا کہ اشتہارات میں خواتین کو غیر ضروری طور پر لینا مناسب نہیں ہے اور وہ اس کے سخت خلاف ہیں۔

مولانا طاہر اشرفی، تصویر ٹوئٹر @TahirAshrafi
مولانا طاہر اشرفی، تصویر ٹوئٹر @TahirAshrafi
user

یو این آئی

اسلام آباد: پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے مشیر مولانا طاہر اشرفی نے اشتہار بنانے والوں پر تنقید کی ہے کیونکہ وہ اکثر اپنے برانڈ کی نمائندگی کے لیے خواتین کا انتخاب کرتے ہیں، جب کہ ملک میں اچھے دکھنے والے مردوں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں ہے۔

اتوار کو جیو ٹی وی نے طاہر اشرفی کے حوالے سے بتایا کہ اشتہارات میں خواتین کو غیر ضروری طور پر لینا مناسب نہیں ہے اور وہ اس کے سخت خلاف ہیں۔ پاکستان میں جنسی جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملزموں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ اشرفی نے بتایا کہ "ملک سے فحاشی، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے میں علمائے کرام کا کردار اہم ہے۔"


قبل ازیں، اسلامی نظریاتی کونسل نے عصمت دری کے مجرموں کو نامرد بنانے کی سزا کو غیر اسلامی قرار دیا تھا اور حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ مزید موثر سزائیں تجویز کرے۔ سال 2020 میں صدر پاکستان عارف علوی نے نامرد بنانے سمیت عصمت دری کے مجرموں کو سخت سزا دینے کے لیے پریوینشن آف ریپ آرڈیننس 2020 منظور کیا تھا۔

گزشتہ سال نومبر میں وزیراعظم عمران خان نے ریپ کرنے والوں کو نامرد بنانے کے قانون کی منظوری بھی دی تھی۔ جیو ٹی وی کے مطابق یہ فیصلہ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران کیا گیا جس میں وزارت قانون نے ریپ کی روک تھام آرڈیننس کا مسودہ پیش کیا تھا۔ اس مسودے میں پولیس میں خواتین کے کردار کو بڑھانا، عصمت دری کے معاملے کو تیزی سے حل کرنا اور گواہوں کا تحفظ شامل ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔