پاکستان: کراچی میں بارش کے سبب بھاری تباہی، متعدد علاقوں میں سیلابی صورتِ حال برقرار

پاکستان کے دارالحکومت اور ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بارشوں کا سلسلہ برقرار ہے اور جمعرات کو ہونے والی بارش کے بعد شہر میں تا حال کئی مقامات پر سیلاب کی سی صورتِ حال ہے

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

کراچی: پاکستان کے دارالحکومت اور ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بارشوں کا سلسلہ برقرار ہے اور جمعرات کو ہونے والی بارش کے بعد شہر میں تا حال کئی مقامات پر سیلاب کی سی صورتِ حال ہے۔ سندھ میں حالیہ بارش کے سبب پیش آنے والے مختلف حادثات میں 80 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے، جبہ کراچی میں 47 افراد ہلاک ہوئے۔ وہیں پاکستان بھر میں 15 جون سے موسلا دھار بارش کی وجہ سے ہونے والے حادثوں میں کم از کم 106 افراد ہلاک اور 52 زخمی ہوگئے ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے اس کی اطلاع دی۔

پاکستان کا جنوبی صوبہ سندھ بارشوں سے سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں 34 افراد ہلاک اور نو زخمی ہوگئے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موسلا دھار بارش کی وجہ سے 24 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ ادھر ، صوبہ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ نے جمعہ کے روز بتایا کہ صوبے میں بارش کی وجہ سے 80 افراد کی موت ہوئی ہے، جس میں سے 47 افراد کی موت صوبے کے دارالحکومت کراچی میں ہوئی ہے۔

وزیر اعلٰی سندھ نے کہا کہ جمعرات کی بارش نے ہمیں ہلا کر رکھ دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ برسات کے بعد نالوں کی صفائی کا کام تیز کیا جائے گا۔ وزیر اعلٰی سندھ نے کہا کہ بارشوں سے شہریوں کی املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں چیف سیکرٹری سندھ کو سروے کی ہدایت کر دی ہے، جسے وفاقی حکومت کے ساتھ بھی شیئر کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگست میں کراچی میں ریکارڈ 604 ملی میٹر بارش ہوئی ہے اور اس نے اس مہینے میں کئی برسوں کا بارش کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ این ڈی ایم اے نے بتایا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں 29 افراد کی موت ہوئی ہے اور اتنے ہی لوگ زخمی ہوئے ہیں جبکہ 196 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

جنوب مغربی بلوچستان میں بھی بارش سے کافی نقصان پہنچا ہے۔ یہاں سیکڑوں لوگوں کے گھر سیلاب میں بہ گئے جس سے یہ لوگ بے گھر ہوگئے ہیں۔ این ڈی ایم اے نے کہاکہ 15 لوگوں کی موت ہوئی ہے اور سات دیگر زخمی ہوئے ہیں جبکہ 907 گھروں کو نقصان پہنچ ہے۔ انتظامیہ نے بتایا کہ مشرقی صوبہ پنجاب میں 12 ،شمالی گلگٹ - بلتستان علاقے میں دس اور پاکستان مقبوضہ کشمیر میں شدید بارش کی وجہ سے چھ لوگوں کی موت ہوئی ہے۔

کراچی کے حالات انتہائی خراب

کراچی میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں پی ای سی ایچ ایس، ڈیفنس، کلفٹن، ناظم آباد، نیو کراچی، گلشن حدید ،گلشن اقبال، گلستان جوہر، لیاقت آباد، نارتھ کراچی، سرجانی ٹاؤن، اورنگی ٹاؤن، شاہ فیصل کالونی، نیا ناظم آباد کے علاوہ ملیر اور لیاری ندی کے قریب آباد کچی بستیاں شامل ہیں۔

کئی علاقوں میں جمعے کے روز تک بارش کا پانی نہیں نکالا جا سکا جس کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد زیادہ متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کر رہی ہے۔ موسلادھار بارش نے شہر کے بنیادی ڈھانچے کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ کئی زیر زمین راستوں میں ابھی تک پانی کھڑا ہے۔ ان میں ناظم آباد انڈر پاس، غریب آباد انڈر پاس، کے پی ٹی انڈر پاس اور ڈرگ روڈ پر واقع زیر زمین راستے شامل ہیں۔

سب سے زیادہ متاثرہ سڑکوں میں نیشنل ہائی وے، مہران ہائی وے، یونیورسٹی روڈ، شارع فیصل کے کچھ حصے، ایم ایم عالم روڈ، ایم اے جناح روڈ، مائی کولاچی روڈ، آئی آئی چند ریگر روڈ، کورنگی روڈ، شہید ملت روڈ، کورنگی انڈسٹریل ایریا روڈ اور دیگر سڑکیں شامل ہیں۔

دوسری جانب شہر کے کئی علاقوں میں 24 گھنٹوں کے بعد بھی بجلی بحال نہیں ہو سکی جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ان علاقوں میں کلفٹن بلاک ٹو، گزری کے بعض علاقے، دہلی کالونی، ہجرت کالونی، کورنگی، لانڈھی، ملیر، شاہ فیصل ٹاؤن، سرجانی ٹاون، بلدیہ، رئیس امروہی کالونی، گلشن اقبال اور دیگر علاقے شامل ہیں۔ کراچی میں بجلی فراہم کرنے والے ادارے 'کے الیکٹرک' کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پانی کھڑا ہونے اور نشیبی علاقوں میں نکاسی آب نہ ہونے سے بجلی کی بحالی میں عملے کو دشواری کا سامنا ہے۔

ادھر حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملیر ندی میں ایک بار پھر سیلاب کا خدشہ ہے اور ملحقہ ندیوں میں اس وقت بھی پانی کا بڑا ریلا گزر رہا ہے۔ ملیر ندی اور لیاری ندی میں آباد بستیوں سمیت اردگرد کی آبادیوں میں مزید پانی داخل ہونے کے بھی خدشات ہیں۔ اس سے قبل ملیر کے کئی علاقوں میں پانی آنے کے بعد فوج کی مدد سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    next