پاکستان: کراچی دھماکے میں جان و مال کو بھاری نقصان، بینک کی عمارت تباہ، 16 افراد جان بحق

صوبہ سندھ کے محکمہ داخلہ کے سیکریٹری نے دھماکے میں 16 افراد کے جاں بحق اور 15 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے، فوت شدہ افراد میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رکن عالمگیر خان کے والد بھی شامل ہیں

کراچی میں دھاکہ کے بعد ملبہ ہٹاتے اہلکار / یو این آئی
کراچی میں دھاکہ کے بعد ملبہ ہٹاتے اہلکار / یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

کراچی: کراچی کے علاقے شیر شاہ کے پراچہ چوک پر نجی بینک کی عمارت میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی عالمگیرخان کے والد سمیت 16 افراد جاں بحق اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوگئے۔ ’ڈان‘ کی رپورٹ کے مطابق دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ عمارت کے پلرز اکھڑ گئے اور بینک کی عمارت تقریباً تباہ ہو گئی، زوردار دھماکے سے قریبی واقع پٹرول پمپ کے علاوہ متعدد گاڑیوں اور موٹر سائیکلز کو بھی نقصان پہنچا۔

ترجمان کراچی پولیس کے مطابق نالے پر قائم نجی بینک میں دھماکا گیس لیکیج سے ہوا، بم ڈسپوزل اسکواڈ کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دھماکہ گیس بھر جانے کے باعث ہوا۔ترجمان نے مزید بتایا کہ واقعے میں دہشت گردی سمیت کسی قسم کی تخریب کاری کے شواہد ابھی تک نہیں ملے ہیں۔

ڈی آئی جنوبی کراچی شرجیل کھرل نے دھماکے کے نتیجے میں 13 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی تاہم دھماکے کی وجوہات سے متعلق انہوں نے کہا کہ اس کے لیے تفتیش جاری ہے۔


پاکستانی وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے اپنی ٹوئٹ میں کراچی سے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی عالمگیر خان کے والد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے واقعے پر اظہار افسوس کیا۔

قبل ازیں ڈاکٹر رُتھ فاؤ سول ہسپتال برنس سینٹر کے میڈیکل سرجن (ایم ایس) ڈاکٹر صابر میمن نے بتایا تھا کہ ہسپتال میں 8 افراد کی لاشیں لائی گئی ہیں۔علاقے کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) ظفر علی شاہ نے بتایا کہ بینک کی عمارت نالے پر تعمیر تھی جنہیں کچھ عرصے قبل نوٹس دیا گیا تھا کہ نالے کی صفائی کے لیے بینک کو خالی کردیں۔

دھماکے کے فوری بعد علاقہ مکین اور ریسکیو ٹیمز جائے وقوع پر پہنچ گئے اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ترجمان رینجرز کے مطابق جوانوں نے موقع پر پہنچ کر علاقے کا گھیراؤ کرلیا ہے اور وہ امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔گورنر سندھ عمران اسمعیل اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔مراد علی شاہ نے دھماکے میں جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے سیکریٹری صحت کو ہدایات جاری کی ہیں کہ زخمیوں کو ہر ممکن فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔


انہوں نے کمشنر کراچی کو واقعے کی تفصیلی انکوائری کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت دی کہ تفتیش میں پولیس کا ایک افسر بھی شامل کیا جائے تاکہ ہر پہلو سے چھان بین ہو سکے۔ خیال رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں کراچی کے علاقے گلشن میں ایک عمارت میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ عمارت کا ایک حصہ تباہ ہوگیا تھا۔

(ان پٹ: یو این آئی)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔