پاکستان: پرویز مشرف کے خلاف دائر غداریٔ وطن کے مقدمے میں فیصلہ محفوظ

عدالت نے کہا کہ مشرف کے وکیل 26 نومبر تک اپنے دلائل رکھ سکتے ہیں، اس مقدمے میں طلب کیے جانے کے بعد سکریٹری داخلہ حاضر ہوئے۔ خیال رہے کہ انھیں 24 اکتوبر کو سمن بھیجا گیا تھا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

اسلام آباد: اسلام آباد کی ایک خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے خلاف غداریٔ وطن کے مقدمے میں منگل کے روز فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔ جسٹس وقار احمد سیٹھ کی قیادت والی سہ رکنی بنچ نے پوچھا کہ مشرف کے وکیل کہاں ہیں؟ عدالت کی اسپیشل رجسٹرار نے بنچ کو مطلع کیا کہ مشرف کے وکیل عمرہ کے مبارک سفر پر گئے ہوئے ہیں۔

ڈان نیوز کے مطابق اسپیشل رجسٹرار کی جانب سے یہ اطلاع دینے کے بعد جسٹس سیٹھ نے کہا کہ سابق صدر کے وکیل کو اپنے دلائل رکھنے کے لیے آج تیسرا موقع دیا گیا تھا۔ کچھ دیر کے لیے سماعت ملتوی کر دی گئی۔ بعد ازاں بنچ نے کہا کہ اس معاملے میں فیصلہ 28 نومبر کو سنایا جائے گا۔ ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ مشرف کے وکیل 26 نومبرتک اپنے دلائل رکھ سکتے ہیں۔ اس مقدمے میں طلب کیے جانے کے بعد سکریٹری داخلہ حاضر ہوئے۔ خیال رہے کہ انھیں 24 اکتوبر کو سمن بھیجا گیا تھا۔

مقدمے کی گزشتہ سماعت پر ایک اہم پیشرفت ہوئی تھی جب وفاقی حکومت نے استغاثہ کی ٹیم کو تحلیل کردیا تھا۔ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے شروع کیا تھا جس کا مقدمہ نومبر 2013 میں دائر کیا گیا، مقدمے میں اب تک 100 سے زائد سماعتیں ہوئیں جب کہ اس دوران 4 جج تبدیل ہوئے۔ عدالت نے متعدد مرتبہ پرویز مشرف کو وقت دیا لیکن وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

مارچ 2014 میں خصوصی عدالت کی جانب سے سابق صدر پر فرد جرم عائد کی گئی تھی جب کہ ستمبر میں پراسیکیوشن کی جانب سے ثبوت فراہم کیے گئے تھے تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم امتناع کے بعد خصوصی عدالت پرویز مشرف کے خلاف مزید سماعت نہیں کرسکی۔ بعدازاں 2016 میں عدالت کے حکم پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ ( ای سی ایل) سے نام نکالے جانے کے بعد وہ ملک سے باہر چلے گئے تھے۔

Published: 19 Nov 2019, 7:11 PM