پاکستان: کورونا وائرس سے خیبر پختونخوا کا 345 طبی عملہ شدید متاثر

سہولیات کے فقدان اور سماجی دوری کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے کورونا وائرس سے متا‍ثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافے نے طبی عملے کو بھی تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

کورونا وائرس
کورونا وائرس
user

ڈی. ڈبلیو

پاکستان کے خیبر پختونخوا میں ایک سینئر ڈاکٹر کی موت سمیت اس وقت متاثرہ ڈاکٹروں کی تعداد دوسو تک پہنچ گئی ہے۔ زیادہ تر متاثرہ ڈاکٹر اسپتالوں یا اپنے گھروں میں قرنطینہ ہیں۔ گزشتہ روز صوبائی دارالحکومت میں بارہ خواتین ڈاکٹروں سمیت 30 مزید ڈاکٹروں کے ٹیسٹ پازیٹو آئے ہیں۔ جبکہ متاثرہ نرسز، پیرا میڈیکس اور معاون عملے کی تعداد 40 سے زیادہ بتائی گئی ہے۔

ڈاکٹرز ایسوسی ایشن، پیرا میڈکیس اور نرسز کی تنظیمیں بار بارحکومت سے لاک ڈاؤن میں سختی کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں تاہم لاک ڈاؤن میں رمضان کی وجہ سے نرمی کر دی گئی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ بازاروں میں لوگوں کا رش ہوتا ہے۔ ڈاکٹروں کو خدشہ ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کورونا وائرس پھیلنے کا سبب بن گئی ہے۔


اس سلسلے میں ڈی ڈبلیو نے 'سارک میڈیکل ایسوسی ایشن' اور 'کامن ویلتھ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن' کے صدر ڈاکٹر عمر ایوب سے بات کی۔ ان کا کہنا تھا، "اس وقت خیبر پختونخوا میں متاثرہ ڈاکٹروں کی تعداد دو سو سے زیادہ ہے۔ ان میں زیادہ تر کے ٹیسٹ پازیٹو آنے کے بعد وہ گھروں میں ہیں۔'' ڈاکٹر عمر ایوب نے مزید بتایا کہ ایک کیس مثبت آنے پر پورا علاقہ سیل کیا جاتا ہے لیکن اسپتال میں کئی کیسز آئے ہیں لیکن وہاں ایسا نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے دوسرے متاثر ہو رہے ہیں۔ سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جو حفاظتی سامان فراہم کیا جاتا ہے وہ ڈسپوزیبل ہے لیکن دوسری بار فراہم نہیں کیا جاتا اور طبی عملے کو وہی طبی سامان دوبارہ استعمال کرنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر ایوب نے مزید بتایا کہ ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں خیبر پختونخوا میں شرح اموات زیادہ ہیں، لاک ڈاؤن پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، بازاروں میں رش ہے جو وائرس کے مزید پھیلنے کا باعث بن رہا ہے۔ ٹیسٹ کرانے کی تعداد بھی کم ہے اگر درست تعداد میں ٹیسٹ کیے گئے تومتاثرہ افراد کی تعداد خطرناک حد تک زیادہ ہوگی۔‘‘

مردان کے ایک ڈاکٹر کے خلاف محکمہ صحت کے اعلی حکام نے تاد یبی کارروائی اس لیے کی تھی کیوں کہ وہ میڈیا کے ذریعے ڈاکٹروں کو سہولیات کے فقدان کے بارے میں آگاہ کر رہا تھا۔ جبکہ اسی طرح کوئٹہ میں حفاظتی سامان کا مطالبہ کرنے والے کئی ڈاکٹروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔


'ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا' کے نمائندے ڈاکٹر اسفند یار خان نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں بتایا،'' پشاور میں اس وقت چھیالیس ڈاکٹرز متاثر ہیں حکومت لاک ڈاؤن سخت کرے، اگر وبا اسی شرح سے بڑھتی گئی تو ہمارے پاس مریضوں کی دیکھ بھال کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ ڈاکٹرز فرنٹ لائن پر کام کررہے ہیں لیکن سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں حکومت وعدہ تو کرتی ہے لیکن حفاظتی سامان کی فراہمی میں تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے۔" ڈاکٹر اسفند یار نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ گھروں تک محدود رہیں۔

ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ پیرا میڈیکس کے ہزاروں اہلکار فرنٹ لائن پر کام کررہیں 'پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا' کے صوبائی صدر سید روئیداد شاہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''اس وقت بیس ہزار پیرامیڈیکل اسٹاف متاثرہ افراد کی دیکھ بھال میں مصروف ہیں۔ ان میں سے 25 کو کورونا وائرس نے متاثر کر دیا ہے۔ اگر حکومت نے پندرہ دن کے لیے مکمل لاک ڈاؤن نہ کیا تو یہ وبا خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔''


خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس کی تشخیص کا ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔ صوبائی وزیر برائے صحت تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت کو جلد دو ہزار ٹیسٹ یومیہ تک بڑھائیں گے۔

'پرونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن' کے صدر ڈاکٹر امیر تاج خان کا کہنا ہے کہ ''ہمارا صحت کا نظام انتہائی کمزور ہے، حکومت دیگر بیماریاں کنٹرول نہیں کرسکتی تو وبا پر اتنی جلدی کیسے قابو پاسکتی ہے؟ لاک ڈاؤن کو مزید س‍خت کیا جائے اور ہر ضلع میں ایک اسپتال کورونا وائرس کے متاثرین کے لیے مختص کیا جائے۔ ‘‘ ملک بھر میں مجموعی طور پر متاثرہ طبی عملے کی تعداد تین سو پینتالیش ہے۔ اس تعداد میں ایک سو پینسٹھ ڈاکٹر،ایک سو اکتیس پیرا میڈیکس اور اکتالیس نرسز شامل ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔