پاکستان: ایک اور نابالغ ہندو لڑکی کا اغوا، ایف آئی آر درج کرنے کا حکم

جس لڑکی کا اغوا ہوا ہے وہ میگھوار طبقہ سے تعلق رکھتی ہے اور بادن ضلع کے تاندو باگھو کی باشندہ ہے۔ اس سے قبل دو نابالغ ہندو بہنوں کے اغوا اور جبراً مذہب تبدیل کر شادی کا معاملہ سامنے آیا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

پاکستان میں دو نابالغ ہندو بہنوں کے اغوا اور جبراً مذہب تبدیل کر مسلم لڑکے سے شادی کا معاملہ ابھی ٹھنڈا بھی نہیں ہوا ہے اور اب ایک دیگر نابالغ ہندو لڑکی کے غائب ہونے کی خبریں گشت کرنے لگی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تازہ معاملہ پاکستان کے سندھ علاقہ سے تعلق رکھتا ہے اور سندھ محکمہ اطلاعات کے ذریعہ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اقلیتی امور کے وزیر ہری رام کشوری لال نے 16 سالہ اس ہندو لڑکی کے اغوا کے بارے میں سوشل میڈیا پر چل رہی خبر کو سنجیدگی سے لیا ہے۔

میڈیا ذرائع کے مطابق جس لڑکی کا اغوا ہوا ہے وہ میگھوار طبقہ سے تعلق رکھتی ہے اور بادن ضلع کے تاندو باگھو کی باشندہ ہے۔ لڑکی کے والد نے مشتبہ لوگوں کے خلاف معاملہ درج کرانے کے لیے بادن کے سینئر پولس سپرنٹنڈنٹ سردار حسن نیازی سے گزارش بھی کی ہے۔ اس پورے معاملے میں پاکستان کی ایک بار پھر بدنامی ہو رہی ہے اور اقلیتوں کے حقوق کی بات کرنے والے عمران خان کی قیادت پر بھی سوالیہ نشان لگ رہا ہے۔ ویسے ابھی تک یہ پتہ نہیں چل سکا ہے کہ اس نابالغ ہندو لڑکی کا اغوا کب ہوا۔

سوشل میڈیا کے ذریعہ معاملہ سامنے آنے کے بعد پاکستان میں اقلیتی امور کے وزیر ہری رام کشوری لال نے مقامی افسران کو اغوا معاملہ پر ایف آئی آر درج کرنے اور لڑکی کے کنبہ کو سیکورٹی فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سندھ میں کم عمر کی شادی انسداد قانون کے تحت نابالغ لڑکیوں کی شادی پر پابندی ہے اور 18 سال سے کم عمر کی لڑکی سے شادی کرنا مجرمانہ عمل ہے۔ کشوری لال نے یہ بھی کہا کہ قانون کا سندھ میں سختی سے عمل کیا جا رہا ہے اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ کشوری لال نے میڈیا سے بات چیت کے دوران موجودہ حکومت میں نابالغ ہندو لڑکیوں کی سیکورٹی کے لیے ہر ممکن کوشش کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ’’سندھ حکومت سندھ اقلیتی تحفظ کمیشن بنانے کی تیاری میں ہے اور اس کے لیے مسودہ کو وزیر اعلیٰ نے گزشتہ دنوں منظوری دی ہے۔‘‘

بہر حال، نابالغ ہندو لڑکی کا یہ تازہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سندھ کے گھوٹکی ضلع میں دو نابالغ ہندو لڑکیوں کے اغوا، جبراً مذہب تبدیلی اور شادی سے پاکستان میں ناراضگی کا ماحول دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے بھی اس سلسلے میں پاکستان کو سخت قدم اٹھانے کی بات کہی ہے۔ دراصل دو لڑکیوں روینہ (13 سال) اور رینہ (15 سال) کا ہولی کے دن شام کو کچھ بااثر لوگوں کے گروپ مبینہ طور پر اغوا کر لیا تھا۔ اغوا کے بعد ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا جس میں ایک قاضی کو دو لڑکیوں کا نکاح کراتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد ہندوستانی وزیر خارجہ سشما سوراج اور پاکستان کے وزیر اطلاعات فواد چودھری کے درمیان کچھ تلخ کلامی بھی ہوئی تھی۔ سشما نے گزشتہ اتوار کو اس معاملے میں پاکستان واقع ہندوستانی سفیر سے جانکاری مانگی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 27 Mar 2019, 1:09 PM