جنرل باجوہ پر نواز شریف کا حملہ، عمران خان نے کیا دفاع

نواز شریف نے جنرل باجوہ پر الزام لگایا کہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی اچھی بھلی چلتی حکومت کو چلتا کیا۔ ججوں سے زبردستی فیصلے لکھوائے۔ ان کو جواب دینا پڑے گا۔

فائل تصویر سوشل میڈیا بشکریہ اخبار ڈان
فائل تصویر سوشل میڈیا بشکریہ اخبار ڈان
user

سید خرم رضا

پاکستانی فوجی سربراہ جنرل قمرجاویدباجوہ کوجہاں سابق وزیراعظم نواز شریف ہدف تنقیدبنارہے ہیں وہیں وزیراعظم عمران خان ان کا زبردست دفاع کررہےہیں۔ نواز شریف اور عمران خان کی اس لڑائی میں پاکستانی فوج مرکز میں نظر آ رہی ہے۔

واضح رہے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف لگائے جانے والے الزامات پر وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف فوج میں انتشار پھیلانے کے لیے فوج کے سربراہ اور انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) کو بدنام کرنے کی کو شش کر رہےہیں ۔عمران خان نے اسلام آباد میں ایک اجلاس سے خطاب کرتےہوئے نواز شریف پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کا حملہ جنرل باجوہ پرنہیں بلکہ پاکستانی فوج پر ہے۔ اس موقع پر عمران خان نےسوال کیا کہ کیا پنامہ لیکس کا معاملہ جنرل باجوہ کا تھا۔سال 2017 میں شریف کو جنرل باجوہ نے نہیں بلکہ سپریم کورٹ نے پنامہ لیکس کے بعد نا اہل قرار دیا تھا جس کے بعد انہوں نے شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم بنایاتھا۔انہوں نے کہاکہ جو کھیل نواز شریف کھیل رہے ہیں۔ وہ اس کھیل کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔

جنرل باجوہ کے تعلق سے عمران خان نے کہا کہ انہوں نے موجودہ حکومت کی بھر پور مدد کی ہے۔ انہوں نے کراچی میں ہونے والی بارش کے بعد اور کرونا وائرس سے نمٹنے میں کافی مدد کی۔ دو سال تک فوج نے پیسہ نہ ہونے کے سبب دفاعی اخراجات میں کٹوتی کی۔ عمران خان نےواضح کردیاکہ اب ان کی کوشش ہوگی کہ نواز شریف کو وطن واپس لایا جائے اور وہ انہیں وی آئی پی نہیں بلکہ عام جیل میں ڈالیں گے۔ وزیر اعظم عمران خان نے مریم نواز اور بلاول زرداری کوبھی بچہ کہہ کر مزاق اڑایا۔

نوازشریف کے خلاف بولتے ہوئےریلوے کے وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے کہا کہ الطاف حسین نمبر ٹو کا نام نواز شریف ہے۔ شیخ رشید احمد نے مزید کہا کہ نواز شریف وہ کھیل کھیل رہےہیں جو بین الاقوامی ایجنڈا ہے کہ پاک فوج کے خلاف بات کی جائے۔

واضح رہے جمعہ کے روز گوجرانوالہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے وزیرِ اعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فوجی سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھاکہ جنرل قمر جاوید باجوہ یہ سوغات آپ کی ہی دی ہوئی ہے۔ آپ ہی اس پریشانی کا موجب ہیں۔فوج کے سربراہ کے حوالے سے نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی اچھی بھلی چلتی حکومت کو چلتا کیا۔ ججوں سے زبردستی فیصلے لکھوائے۔ ان کو جواب دینا پڑے گا۔

قبل ازیں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے مشترکہ اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک کے آغاز پر سخت ردِ عمل دینے کی بجائے غیر متوقع طور پر محتاط رویہ اپنایا تھا۔حکومتی رہنماؤں کی جانب سے حزبِ اختلاف کے احتجاجی جلسے پر براہِ راست تنقید یا ردِ عمل نہ دینے کی حکمت عملی کا فیصلہ تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی اراکین کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔وزیر اعظم عمران خان جب پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد قومی اسمبلی ہال میں پہنچے تو حزب اختلاف اراکین نے ان کے خلاف نعرے بازی کی۔ جس پر وہ ایوان چھوڑ کر رخصت ہوگئے۔

Published: 18 Oct 2020, 7:40 AM
next