نوازکی پارٹی ممبران کو بغیر اجازت پاکستانی فوج سے نہ ملنے کی ہدایت

نواز شریف نےعمران خان کے خلاف سخت موقف اختیارکرتے ہوئےکہا ہےکہ ’وزیراعظم عمران خان کو ایک منتخب نہیں بلکہ پاکستانی فوج کی جانب سے منتخب کردہ امیدوارقراردیا جا سکتا ہے‘۔

تصویر سوشل میڈیا بشکریہ نیشنل ہیرالڈ
تصویر سوشل میڈیا بشکریہ نیشنل ہیرالڈ
user

یو این آئی

پاکستان میں سیاسی سرگرمیاں تیزہوگئی ہیں ۔ ایک جانب جہاں حزب اختلاف کی پارٹیوں کےایک اتحاد بننےکی بات ہورہی ہےتو دوسری جانب ملک کےسابق وزیر اعطم نواز شریف اپنی پارٹی کےارکان کویہ ہدایت دےرہیں ہیں کہ وہ فوج سے رابطہ نہ قائم کریں۔ واضح رہےپاکستان مسلم لیگ(ن) کےسربراہ نوازشریف نے اپنے پارٹی عہدہ داروں کو پارٹی قیادت کی پیشگی اجازت کے بغیر پاکستانی فوج اور محکمہ انٹیلی جنس سے نہ ملنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔

شریف نے کہاہے کہ ،’’میں اپنی پارٹی کو ہدایت جاری کررہا ہوں کہ مستقبل میں، پارٹی کاکوئی بھی ممبر ذاتی طور سے یا پارٹی سطح پر فوج اور اس سے متعلقہ ایجنسیوں کے کسی بھی نمائندہ کے ساتھ میٹنگ نہیں کرےگا۔‘‘

شریف نے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)حکومت اور فوج کے ساتھ قریبی تعلقات کے تناظر میں ٹویٹ کیا، حالیہ واقعات نے ایک مرتبہ پھر ثابت کردیاہے کہ سات پردوں کے پیچھے چھپ کر کیسے میٹنگیں کی جاتی ہیں اور کیسے ان معاملات کو خصوصی رنگ دے کر کچھ اور لوگوں کو مشہورکیا جاتا ہے۔یہ کھیل اب ختم ہونا چاہیے۔

نواز شریف نےعمران خان کے خلاف سخت موقف اختیارکرتے ہوئےکہا ہےکہ ’وزیراعظم عمران خان کو ایک منتخب نہیں بلکہ پاکستانی فوج کی جانب سے منتخب کردہ امیدوارقراردیا جا سکتا ہے‘۔

next