پاکستان

پاکستان کے لیے پہلا ایشین کراٹے میڈل جیتنے والی نرگس ہزارہ

نرگس ہزارہ نے لڑکیوں کے نام پیغام میں کہا، ’’آپ خود کو کمزور نہ سمجھیں اور گھروں تک محدود نہ رہیں، باہر نکلیں اور اپنے خوابوں کو سچ کرنے کے لیے خوب محنت کریں، دنیا آپ کی ہو گی۔‘‘

تصویر ڈی ڈبلیو
تصویر ڈی ڈبلیو

ڈی. ڈبلیو

انڈونیشیا میں جاری ایشین گیمز میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی نرگس ہزارہ نے کراٹے کے مقابلوں میں کانسی کا تمغہ جیت کر نئی تاریخ رقم کی ہے۔ نرگس ایشین کراٹے مقابلوں میں میڈل جیتنے والی پہلی پاکستانی خاتون ہیں۔

کوئٹہ کی ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ ایتھلیٹ نرگس ہزارہ نے جب 18ویں ایشیائی مقابلوں میں پاکستان کے لیے کراٹے کا پہلا کانسی کا تمغہ حاصل کیا تو یہ نہ صرف خود اُن کے لیے بلکہ اُن کے ملک اور خاندان کے لیے بھی فخر و مسرت کے لمحات تھے۔ نرگس نے یہ میڈل نیپال کی ریتا کارکی کو ہرا کر اپنے نام کیا۔

ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو میں نرگس ہزارہ نے کراٹے کے کھیل سے اپنے لگاؤ اور شوق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اُن کے والد کو اسپورٹس میں بہت دلچسپی تھی اور یہی وجہ تھی کہ صرف پانچ برس کی عمر ہی میں نرگس کو مارشل آرٹس کی ٹریننگ کے لیے کلب میں داخل کرا دیا گیا تھا۔

نرگس کا کہنا تھا،’’میں نے مارشل آرٹس کی ٹریننگ سن 2005 سے شروع کی اور اس کے بعد سن 2010 میں، میں نے ’ہزارہ شوٹوکن کراٹے اکیڈمی‘ میں شمولیت اختیار کر لی۔ چینی فلموں میں کراٹے سے متعلق فلمیں دیکھ کر میرا شوق اس کھیل کے لیے اور بھی بڑھا اور یوں میں نے پورے جذبے سے اسے سیکھنا شروع کر دیا۔‘‘

نرگس ہزارہ نے پانچ برس کی عمر سے مارشل آرٹس کی تربیت حاصل کرنی شروع کی تھی

اس سوال کے جواب میں کہ بلوچستان جیسے پسماندہ اور قدامت پسند صوبے اور بالخصوص ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے کے باعث ایتھلیٹ بننے کا سفر آسان نہ رہا ہو گا، نرگس کا کہنا تھا کہ ایشین گیمز میں کانسی کے تمغے تک کا سفر مشکلات سے بھر پور تھا۔ نرگس کے بقول ایک تو لوگ خواتین کو اسپورٹس میں آگے بڑھتے ہوئے دیکھنا ہی نہیں چاہتے اور دوسرے ہزارہ برادری کا فرد ہونے کے سبب (جسے ایک عرصے سے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے) بھی انہیں بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔

نرگس ہزارہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اُن کے رشتہ دار اُن کے مارشل آرٹس میں آنے کے حق میں نہیں تھے لیکن اُن کے خاندان نے ہمیشہ اُن کا ساتھ دیا۔ نرگس نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے مزید کہا،‘‘ ہزارہ برادری کا فرد ہونے کے سبب کسی بھی مقابلے کے لیے جاتے ہوئے ہمیشہ مار دیے جانے کا خوف رہتا تھا۔ جب بھی میں کراٹے کلب یا کسی مقابلے میں شرکت کے لیے جاتی، میرے گھر والے بہت پریشان ہوا کرتے لیکن میں نے ہر خوف کا مقابلہ کیا اور کبھی ہمت نہیں ہاری۔‘‘

نرگس کا کہنا ہے کہ خواتین کو کھیل کے میدان میں مناسب مواقع دینے کے لیے پاکستانی حکومت کی جانب سے زیادہ سرپرستی درکار ہے۔ خواتین کو غیر ملکی کوچز اور بیرونی ممالک میں کھیلنے کے مزید مواقع ملنے چاہیے۔

بطور ایتھلیٹ نرگس اپنے کوچ غلام علی ہزارہ کو اپنا آئیڈیل مانتی ہیں جو خود بھی جنوب ایشیائی مقابلوں میں تین بار گولڈ میڈل حاصل کر چکے ہیں۔

نرگس ہزارہ نے لڑکیوں کے نام پیغام میں کہا، ’’آپ خود کو کمزور نہ سمجھیں اور گھروں تک محدود نہ رہیں، باہر نکلیں اور اپنے خوابوں کو سچ کرنے کے لیے خوب محنت کریں، دنیا آپ کی ہو گی۔‘‘