کراچی: زہریلی گیس کی وجہ سے 14 افراد جان بحق، 300 سے زیادہ متاثر

گیس کے اخراج کی وجہ سے گزشتہ 48 گھنٹوں میں 14 افراد جاں بحق ہو چکے جبکہ 300 سے زائد افراد متاثر ہیں، مرکزی وزیر سید مراد علی شاہ نے متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو باہر نکالنے کا حکم دیا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کراچی: پاکستان کے کراچی شہر میں مشتبہ ہائی ڈروجن سلفائٹ گیس کے اخراج کی وجہ سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور یہ تعداد 14 سے تجاوز کر گئی ہے۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق گیس کا اخراج اتوار کی شب کو ہوا تھا اور اس میں سات لوگوں کی موت ہو گئی تھی اور ایک دیگر نے کے پی ٹی اسپتال میں دم توڑ دیا تھا۔ گزشتہ 48 گھنٹوں میں 14 افراد جاں بحق ہوچکے جبکہ 300 سے زائد افراد متاثر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کراچی پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف زہریلی گیس یا کیمیکل پھیلانے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا ہے، کیماڑی میں علاقہ مکینوں نے گیس پھیلنے کے واقعے کے خلاف احتجاج کیا اور سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔ احتجاج کے باعث ٹریفک جام ہوگیا اور ٹرکوں کنٹینروں کی قطاریں لگ گئیں۔ مظاہرین نے کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) حکام کے خلاف نعرے بازی کی، مظاہرین کے مطابق کے پی ٹی حکام کی غفلت کی وجہ سے کسی کنٹینر سے زہریلی گیس خارج ہو رہی ہے۔

دوسری جانب کے پی ٹی حکام کا کہنا ہے کہ گیس کا اخراج بندرگاہ یا وہاں موجود کسی کنٹینر سے نہیں ہوا، اطلاعات کے مطابق جان لیوا زہریلے کیمیکل سے آلودہ ہوا کیماڑی سے نکل کر کھارادراور رنچھوڑ لائن تک جاپہنچی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی سے رپورٹ طلب کر لی، وزیر اعلیٰ سندھ کا متاثرہ افراد کا بہترین علاج کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ڈاکٹرز کی اسپتال میں موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔

وفاقی محکمہ صحت کے سکریٹری زاہد علی عباسی نے پیر کی شام اسپتال کا دورہ کیا تھا۔ اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر عاصم حسین نے سبھی گیس متاثروں کو مفت علاج کرنے کا حکم دیا ہے۔ محکمہ صحت کے ملازمین ابھی بھی اس شعبہ میں آ کر لوگوں کو احتیاط برتنے کا مشورہ دینے کے علاوہ انہیں ماسک پہننے اور گھروں اور کھڑکیوں کے دروازے بند کرنے کامشورہ دے رہے ہیں۔ مرکزی وزیر سید مراد علی شاہ نے متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو باہر نکالنے کا حکم دیا ہے۔