پاکستان: او آئی سی اجلاس میں شرکت پر حزب اقتدار اور اپوزیشن پارٹیاں منقسم

او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ہندوستان کو مدعو نہ کرنے کی پاکستان کی درخواست ٹھکرائے جانے کے بعد اجلاس میں شرکت کو لے کر پاکستان کی برسراقتدار جماعت اور اپوزیشن پارٹیاں منقسم نظر آئیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

اسلام آباد: تنظیم تعاون اسلامی (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ہندوستان کو دعوت نہیں دینے کی پاکستان کی درخواست کو ٹھکرائے جانے اور اس سلسلے میں اس اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کے حکومت کے اقدام پر پاکستان کی برسراقتدار جماعت اور حزب اختلاف کی پارٹیاںمنقسم ہیں۔

عمران خان حکومت نے کہا ہے کہ پاکستان ابوظہبی میں او آئی سی کے 46 ویں اجلاس میں حصہ نہیں لے گا جبکہ پاکستان پپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان او آئی سی کا بنیادی رکن ہونے کی وجہ سے اجلاس میں شرکت کرنی چاہئے۔

دو روزہ یہ اجلاس متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ابو ظہبی میں جمعہ کو شروع ہو گئی، اس میں ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج ’مہمان خصوصی‘ کے طور پر حصہ لے رہی ہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جمعہ کو پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اعلان کیا کہ پاکستان ابو ظہبی میں او آئی سی کے 46 ویں اجلاس میں حصہ نہیں لے گا۔ بدھ کو پاکستان نے او آئی سی کو باضابطہ طور سے اطلاع دی تھی کہ اگر اجلاس میں ہندوستانی وزیر خارجہ کو مہمان خصوصی کے طور پر بلایا گیا تو وہ اجلاس کا بائیکاٹ کرے گا۔

مشترکہ اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے قریشی نے کہا کہ ’’میں نے یو اے ای سے ہندوستان کو دعوت دینے کے فیصلے کے جائزہ لینے کی درخواست کی تھی۔ اس پر میزبان ملک کا جواب تھا کہ جس وقت ہندوستا ن کو اس کانفرنس میں آنے کے لئے دعوت دی گئی تھی پلوامہ کا واقعہ نہیں ہوا تھا۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ یو اے ای حکام نے کہا کہ ’’ان کے دعوت نامہ کو واپس لینا مشکل ہوگا۔‘‘
زرداری نے کہا کہ پاکستان او آئی سی کے بنیادی ارکان میں سے ایک ہے۔ اسے اجلاس میں حصہ لینا چاہئے۔

انہوں نے ایوان میں کہا کہ ’’میں ایک جمہوری شخص ہوں۔ اگر ایوان یہ بات مانتا ہے کہ وزیرخارجہ کو حصہ نہیں لینا چاہئے تب میں زیادہ کچھ نہیں کہوں گا۔ مگر حصہ نہیں لینا کوئی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ وزیر خارجہ کو او آئی سی کی میٹنگ میں حصہ لینا چاہئے۔ پاکستان کو وہاں موجود ہونا چا ہئے۔

انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے ملک کے عوام جذباتی ہیں۔ ہم جذباتی ہیں اور جذباتی انداز میں سوچتے ہیں۔ جنگ اقوام کے خلاف ہوتی ہے۔ہم جنگ کے لئے تیار ہیں لیکن یہ آخری متبادل ہونا چاہئے۔ نرم سفارت کاری اس وقت کی ضرورت ہے۔