پاکستان میں کیا ججوں کی خفیہ نگرانی کی جاری ہے؟

ججوں کی نگرانی اسی وقت عمل میں لائی جاتی ہےجب جج طاقتور حلقوں کے کنڑول میں نہ ہوں یا کم ازکم طاقتور حلقے انہیں اپنے لیے مسئلہ سمجھنے لگیں۔ سابق اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جسٹس عیسیٰ کی خفیہ نگرانی کی گئی

تصویر ڈی ڈبلیو ڈی
تصویر ڈی ڈبلیو ڈی
user

ڈی. ڈبلیو

'جناب میری اطلاع کے مطابق درخواست گزار (جسٹس قاضی فائز عیسیٰ) کی پٹیشن کی تیاری میں اس بنچ میں شامل کچھ ججوں نے بھی مدد کی ہے‘۔ اس وقت کے اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور خان کے سپریم کورٹ کے دس رکنی بنچ کے سامنے یہ الفاظ کمرہ عدالت نمبر ایک میں کسی بم دھماکے سے کم نہ تھے۔

کمرے میں تو جیسے ایک لمحے کے لیے سکتہ طاری ہوگیا ہو۔ اس وقت جسٹس عمر عطا بندیال دیگر نو جج صاحبان کے ہمراہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور دیگر کی طرف سے درخواستوں پر کیس کی سماعت کر رہے تھے۔ عدالت کی یہ سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف حکومت کی طرف سے صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواستوں پر اٹھارہ فروری 2020 کو عمل میں لائی جا رہی تھی۔ جس وقت اٹارنی جنرل نے عدالت میں یہ بیان دیا اس وقت عدالت میں وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے داخلہ و احتساب امور بیرسٹر شہزاد اکبر بھی موجود تھے۔

اٹارنی جنرل کے بیان کے بعد عدالت کی طرف سے واضح طور پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اٹارنی جنرل سے اس بیان کی بابت ثبوت طلب کیے گئے اور کہا گیا کہ یا تو ثبوت دیں یا پھر اپنا بیان واپس لیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر عدالت کہتی ہے کہ میں اپنا بیان واپس لوں تو میں ایسا کر لیتا ہوں مگر میں عدالت کے تمام سوالات کے جواب دوں گا۔ اس بات چیت کے دوران دس رکنی بنچ میں شامل ایک جج کی طرف سے عدالت میں موجود صحافیوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ یہ معاملہ میڈیا میں رپورٹ نہ کریں۔ یوں معاملہ اس وقت رفع دفع ہو گیا اور میڈیا میں شہہ سرخیاں بھی نہ بنیں۔ ظاہر ہے ٹی وی اینکرز کو رات کو چنگھاڑنے کا موقع بھی نہ مل سکا۔ اس لیے پاکستانی عوام کی اکثریت اس اہم ترین خبر اور اس کے مندرجات سے محروم رہے۔ ہاں کچھ صحافیوں نے اس بارے میں سوشل میڈٰیا پر ہلکی پھلکی بات چیت ضرور کی۔

اس ایک واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال ضرور پیدا کر دیا ہے کہ کیا ملک میں ریاست کے چار ستونوں یعنی مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ اور میڈیا میں آئینی طور پر طاقتور ترین ستون یعنی عدلیہ کی بھی خفیہ نگرانی ہو رہی ہے؟ اگرایسا ہے تو یہ کیوں ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ نگرانی کون کر رہا ہے؟ کس کے کہنے پر ایسا کیا جارہا ہے یا یہ ازخود کیا جا رہا ہے؟

یوں تو نوے کی دہائی میں بھی ججوں کی نگرانی کا تنازعہ ایک اسکینڈل کی صورت میں سامنے آیا تھا مگر ججوں کی خفیہ نگرانی کی تازہ تاریخ سال 2004 سے شروع ہوتی ہے جب اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے ثبوت اکٹھے کرنے کی غرض سے ان کی نگرانی کی جاتی رہی۔ یہ بات بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری معذولی کے دوران خفیہ ایجنسیوں کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسر ان سے ملاقاتیں بھی کرتے رہے۔ چونکہ وہ اپنے گھر پر بند تھے اس لیے ان سے طاقتور لوگ خود آسانی سے مل سکتے تھے تاہم سابق چیف جسٹس نے ان ملاقاتوں کے بارے میں آج تک کبھی لب کشائی نہیں کی۔ ان کی بحالی کے بعد بھی سپریم کورٹ کے ججوں کی خفیہ نگرانی ہوتی رہی جس کا واضع ثبوت تین نومبر2007 کے واقعات تھے جن میں تمام ناپسندیدہ ججوں کو بیک جنبش قلم فارغ کر دیا گیا اور جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کیا گیا۔

سابق چیف جسٹس جسٹس آصف سعید کھوسہ کے دور میں بھی نگرانی کے لیے خفیہ اہلکار سپریم کورٹ کے احاطوں میں دیکھے جاتے رہے ہیں۔ کچھ ہی عرصہ قبل اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی بھی بظاہر اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ شوکت عزیز صدیقی نے راولپنڈی بار سے اپنے خطاب میں عدلیہ پر دباؤ اور مرضی کے بنچز تشکیل دلوانے کے حوالے سے انکشافات پر مبنی تقریر کی تھی۔ ان کی تقریر کے متن پر تو کسی قسم کی تحقیقات نہ ہوئیں تاہم انہیں اسی تقریرکی پاداش میں منصب سے ہاتھ دھونا پڑا۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین توڑنے کے معاملے پر قائم خصوصی عدالت کی طرف سے سزا کے اعلان کے بعد اس خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار سیٹھ کو میڈیا کے ایک مخصوص حلقے نے خوب تنقید کا نشانہ بنایا جو اس بات کا غماز رہا ہے کہ طاقت ور حلقے اس معزز جج سے بھی خوش نہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ججوں کی نگرانی اسی وقت عمل میں لائی جاتی ہے جب ججز طاقتور حلقوں کے کنڑول میں نہ ہوں یا کم ازکم طاقتور حلقے انہیں اپنے لیے مسئلہ سمجھنے لگیں۔

اس سارے پس منظر کے ساتھ ججوں کی نگرانی کے بارے میں اٹارنی جنرل کی گفتگو کے بعد ملکی میڈیا میں ایک کہرام ضرور مچا اور اٹارنی جنرل کو بیس فروری کو استعفیٰ بھی دینا پڑا مگر حیران کن طو رپر اس اہم معاملے کے بارے میں ملک کے کسی چوٹی کے سیاستدان اور سرشام ٹی وی چینلز کی اسکرینوں پر جلوہ گر کسی اینکر یا صحافی نے لب کشائی کی جرآت نہ کی کہ آیا ججوں کی نگرانی کی جا رہی ہے یا نہیں۔ یہ خاموشی بظاہر خوف، دباؤ اور لالچ جیسی مجبوریوں کا اظہار ہے۔ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے بظاہر معاملہ ٹھنڈا کرنے کے لیے کہا ہے کہ ملک میں ججوں کی نگرانی نہیں کی جا رہی لیکن اکثر حکومتی بیانات زمینی حقائق سے برعکس ہی ہوتے ہیں۔