مہنگائی سے پریشان پاکستان میں مریم نواز کے ’میک اَپ‘ کے لیے 4 کروڑ روپے کا فنڈ جاری، لوگ حیران
پاکستانی عوام نے سوال اٹھایا ہے کہ ملک میں روز مرہ کی چیزیں دن بہ دن مہنگی ہوتی جا رہی ہیں، ایسے میں کروڑوں روپے کا بجٹ صرف سجنے سنورنے کے لیے کیسے جاری کیا جا سکتا ہے۔

غریبی اور مفلسی سے بے حال پاکستان کے صوبہ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کے لیے ان کی حکومت نے 4 کروڑ روپے کا ایسا فنڈ جاری کیا ہے، جس نے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ یہ فنڈ ان کے ’میک اَپ‘ کے لیے جاری ہوا ہے۔ حکومت پاکستان نے مریم نواز کے ساتھ ساتھ وزیر اطلاعات اعظم ظاہر بخاری کے لیے بھی میک اَپ و پریزنٹیشن خرچ کے طور پر فنڈ جاری کیا ہے۔ اس معاملہ نے طول پکڑ لیا ہے اور لوگوں کے اعتراضات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ پاکستانی عوام یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ ملک میں روز مرہ کی چیزیں دن بہ دن مہنگی ہوتی جا رہی ہیں، ایسے میں کروڑوں روپے کا بجٹ صرف سجنے سنورنے کے لیے کیسے جاری کیا جا سکتا ہے۔
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ قبل میں بھی مریم نواز کی سرکاری گاڑی کے ٹایر بدلوانے کے لیے ایک کروڑ پاکستانی روپے خرچ کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ اس پر بھی کافی ہنگامہ ہوا تھا۔ اب تازہ بجٹ کے جاری ہونے سے لوگوں کی ناراضگی بہت بڑھ گئی ہے۔ ہندی نیوز پورٹل ’امر اجالا‘ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبہ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کے سجنے سنورنے سے متعلق جاری کردہ 4 کروڑ روپے بجٹ والے سرکاری حکم کی کاپی اس کے پاس موجود ہے۔
پاکستان پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی ہمیشہ سے ہی یہ عادت رہی ہے کہ وہ عوام کو چھوڑ کر اپنے لیے ہی پیسہ خرچ کرتی آئی ہے۔ کئی بار حالات ایسے ہوئے ہیں کہ پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر اپنی کنگالی اور مفلسی سے فضیحت کا سامنا کرنا پڑا۔ گزشتہ 2 سالوں میں پاکستان نے دنیا کے الگ الگ ممالک میں موجود اپنے سفارتخانوں سمیت قونصلیٹ کا کئی جگہ بل تک نہیں بھرا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پاکستان کی طرف سے دنیا کے الگ الگ ممالک میں جانے والے کئی وزراء کو سفارتخانوں کی گاڑیاں تک دستیاب نہیں ہو سکیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں ہندوستانی سفارتخانوں میں اپنی خدمات دے چکے ریٹائرڈ کرنل مندیپ سنگھ ڈھلو کہتے ہیں کہ 2024 سے 2026 کے درمیان کئی ایسے خطوط پاکستان نے اپنے سفارتخانوں کو لکھے، جس سے ان کی مفلسی اور غربت واضح ہوتی ہے۔ ایسے میں صوبہ پنجاب کی وزیر اعلیٰ اور ایک وزیر کے لیے ان کے میک اَپ پر 4 کروڑ روپے خرچ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کبھی بھی اپنی عوام کی فکر نہیں کرتی۔
واضح رہے کہ پاکستان میں ایک لیٹر دودھ کی قیمت 200 روپے سے 370 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ ایک لیٹر پٹرول کے لیے بھی اس ملک میں تقریباً 250 روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ بدحال معاشی حالت کے سبب اس وقت پاکستان میں 400 سے 500 روپے درجن کیلا اور تقریباً 500 روپے کلو سیب فروخت ہو رہے ہیں۔ ظاہر ہے، ایسی حالت میں میک اَپ کے لیے 4 کروڑ روپے کا فنڈ جاری کیا جانا حیران کرتا ہے۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ بے حد خفیہ طریقے سے یہ حکم جاری کیا گیا، لیکن حکومت کے ہی کچھ لوگوں نے اندرونی طور پر حکم کی مخالفت شروع کر دی اور اب بات باہر آ گئی ہے۔ حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کو ہی اس بارے میں کچھ جواب دیتے نہیں بن رہا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔