عمران خان نے اسامہ بن لادن کو کہا ’شہید‘، پھر پاکستانی قومی اسمبلی میں مچ گیا ہنگامہ

پی پی پی لیڈر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ ”آج عمران خان نے خود کو پارلیمنٹ میں ‘طالبان خان’ ثابت کر دیا۔ دونوں کے مابین ہونے والی ملاقاتوں سے ہی عمران خان-طالبان کا گٹھ جوڑ واضح ہوگیا تھا۔“

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

اسلام آباد: پاکستام مسلم لیگ (ن) کے سینئر لیڈرخواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر اعظم عمران خان کی اس تقریر کو زبردست طور پر تنقید کا نشانہ بنایا جس میں انھوں نے مقتول القاعدہ لیڈر اسامہ بن لادن کو شہید قراردیا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ دہشت گردی کو پاکستان کی سرزمین پرلانے والا اسامہ بن لادن ایک دہشت گرد تھا اور وزیراعظم عمران خان اسے شہید کہہ رہے ہیں جو ناقابل قبول ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے بھی اس سلسلے میں عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے باضابطہ ایک بیان جاری کر کے عمران خان کو 'قومی سلامتی کے لیے خطرہ' قرار دیا اور کہا کہ اسامہ بن لادن کو شہید کہہ دینے سے عمران خان قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسامہ کو شہید کہا جارہا ہے تو پھر ان عام شہریوں اور ہماری مسلح افواج کے ممبروں کی کیا حیثیت ہے جو القاعدہ کے حملوں میں شہید ہوئے۔

پی پی پی لیڈر نے مزید کہا کہ آج عمران خان نے خود کو پارلیمنٹ میں 'طالبان خان' ثابت کر دیا۔ دونوں کے مابین ہونے والی ملاقاتوں سے ہی عمران خان-طالبان کا گٹھ جوڑ واضح ہوگیا تھا۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ یہ (عمران خان) وہی شخص ہے جس نے طالبان سے پاکستان میں اپنے دفاتر کھولنے کا مطالبہ کیا تھا۔