اب پاکستان میں ’ہم دو ہمارے دو‘ پر ہوگا عمل، سپریم کورٹ نے کی تلقین

پاکستانی سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ علماء، سول سوسائٹی اور حکومت آبادی کم کرنے کے لیے اقدامات کریں، بڑھتی آبادی ایک بم کی طرح ہے جس سے ملکی وسائل پر دباؤ بڑھتا ہے۔

پاکستانی سپریم کورٹ
پاکستانی سپریم کورٹ
user

یو این آئی

اسلام آباد: پاکستان میں بے تحاشہ آبادی سے ملکی وسائل پر بڑھتے دباؤ پر قابو پانے کے لئے سپریم کورٹ نے فی گھرانہ دو بچے کی تلقین کے ساتھ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے متعلقہ کیس کی سماعت کے بعد اپنا فیصلہ سنا دیا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ علماء، سول سوسائٹی اور حکومت آبادی کم کرنے کے لیے اقدامات کریں، بڑھتی آبادی ایک بم کی طرح ہے جس سے ملکی وسائل پر دباؤ بڑھتا ہے اس لیے آبادی کی منصوبہ بندی کے لیے پوری قوم کو ساتھ چلنا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ سوال آئندہ نسلوں کے مستقبل کا ہے اور دوبچے فی گھرانہ سے آبادی پر قابو پانے میں مدد ملے گی، جس کے لئے پارلیمنٹ اور انتظامیہ سمیت تمام اسٹیک ہولڈروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

گزشتہ روز سپریم کورٹ میں آبادی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے تھے کہ اگر آبادی کے لیے بنائی گئی ٹاسک فورس کی سفارشات پر حکومت نے عمل درآمد نہیں کیا تو یہ ملکی تباہی کا باعث بنے گا۔ روزنامہ ڈان کے مطابق قبل ازیں ملک میں بڑھتی آبادی پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت میں چیف جسٹس نے اس عمومی سوچ سے اختلاف کیا تھا کہ بچے کم پیدا کرنا اسلام کے خلاف ہے اور سوال کیا تھا کہ کیا ملک اس قابل ہے کہ ایک گھر میں سات سات بچے پیدا ہوں؟ اس موقع پر جسٹس عمر عطا بندیال نے بھی کہا تھا کہ اولاد میں مناسب وقفے کے حوالے سے قرآن میں بھی آیات موجود ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔