پاکستان کے مری میں برف باری کے سبب زبردست ٹریفک جام، 21 افراد ہلاک، ایمرجنسی نافذ

پاکستان کے پہاڑی اور سیاحتی مقام مری میں برف باری کا لطف لینے بڑی تعداد میں آئے لوگوں کے ٹریفک جام میں پھنسنے کی وجہ سے ہوئے حادثے میں 21 افراد کی موت کے بعد ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا ہے

پاکستان کے مری میں حادثہ / Getty Images
پاکستان کے مری میں حادثہ / Getty Images
user

یو این آئی

مری: پاکستان کے پہاڑی اور سیاحتی مقام مری میں برف باری کا لطف لینے بڑی تعداد میں آئے لوگوں کے ٹریفک جام میں پھنسنے کی وجہ سے ہوئے حادثے میں 21 افراد کی موت کے بعد ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے مری کو متاثرہ علاقہ قرار دیتے ہوئے ہسپتالوں، تھانوں، انتظامیہ کے دفاتر اور ریسکیو سروسز میں ایمرجنسی بھی نافذ کر دی۔

انہوں نے امدادی کاموں میں تیزی لانے اور پھنسے ہوئے سیاحوں کو امداد فراہم کرنے کی ہدایات بھی جاری کیں۔ مسٹر بزدار کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایاگیا ہے کہ پھنسے ہوئے سیاحوں کو بچانا ان کی حکومت کی "اولین ترجیح" ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام ریسٹ ہاؤس کو سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ سیاحوں کو بچانے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ متاثرہ سیاحوں کو خوراک اور ضروری اشیاء بھی فراہم کی جارہی ہیں۔


وزیراعلیٰ نے بعد ازاں ایک ٹویٹ میں یہ بات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے برف میں پھنسے شہریوں کو بچانے کے لیے کام کو تیز کرنے اور راولپنڈی سے مزید مشینری بھیجنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ خیبرپختونخوا کی گلیات میں گاڑیوں کے داخلے پر بھی فی الحال پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

انہوں نےبتایا کہ اس سے پہلے رات 23,000 سے زائد کاروں کو علاقے سے نکالا گیا تھا اور امدادی کارروائیاں جاری تھیں۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ پولیس اور ضلع انتظامیہ کی طرف سے دی گئی ہدایات پر سختی سے عمل کریں اور ان کے ساتھ تعاون کریں۔

پنجاب حکومت کی طرف سے جاری کردہ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ "حکومت پنجاب نے مری شہر میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔ ہم شہریوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنی اور اپنے پیاروں کی جان کو خطرے میں ڈالنے سے بچنے کے لیے اپنے سفری منصوبے بند کر دیں۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بھی اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر انہوں نے پوسٹ کیاکہ "مری کی طرف جانے والی سڑک پر سیاحوں کی المناک موت سے صدمے میں ہوں اور پریشان ہوں۔ ضلع انتظامیہ موسم کا جائزہ لیے بغیر زبردست برف باری اور ہجوم کے جمع ہونے کی تیاری بھی نہیں کر سکی۔ ایسے سانحات کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لیے تحقیقات اور سخت ضابطے کے احکامات دیئے گئے ہیں۔‘‘


وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا کہ 'اتنی بڑی تعداد میں سیاح 15-20 سال میں پہلی بار ہل اسٹیشن پر آئے تھے جس سے بڑا بحران پیدا ہوا'۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔