دہشت گردوں کے مالی معاون حافظ سعید کو گیارہ سال قید کی سزا

عدالت نے جماعت الدعوۃ کے سربراہ کوکالعدم دہشت گرد تنظیم کا حصہ اور غیرقانونی جائیداد رکھنے کے جرم کا مرتکب گردانا گیا ہے۔

سوشل میڈیا 
سوشل میڈیا

یو این آئی

پاکستان میں انسداد دہشت گردی عدالت نے منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ کالعدم تنظیم چلانے پر آج حافظ سعید کو گیارہ (11) سال قید کی سزا سنائی ہے۔ کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ پر دہشت گردوں کی مالی معاونت کے دو مقدمات چل رہے تھے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے نے خاطی قرار دیئے جانے والے ملزم سعید پر ساتھ ہی 30 ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔

انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات کے تحت سنائی جانے والی سزا میں ساڑھے پانچ، ساڑھے پانچ سال قید اور 15، 15 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ عدالت نے فوجداری کوڈ کی دفعہ 382-بی کے تحت ان کے ساتھ ساتھ الانفال ٹرسٹ کے سیکریٹری ملک ظفر اقبال کو بھی اسی جرم میں یکساں سزا سنائی گئی۔ جج نے جب سزا سنائی اس وقت خاطی ٹھہرایا جانیوالا کمرہ عدالت میں موجود تھے۔عدالت نے حکام کو تاحکم ثانی حافظ سعید کو تحویل میں رکھنے کی ہدایت دی ہے۔

حافظ کے وکیل عمران گِل کے حوالے سے پاک میڈیا نے خبر دی ہے کہ جماعت الدعوۃ کے سربراہ کوکالعدم دہشت گرد تنظیم کا حصہ اور غیرقانونی جائیداد رکھنے کے جرم کا مرتکب گردانا گیا ہے۔ سرکاری وکیل عبدالرؤف وٹو نے بتایا کہ حافظ سعید کے ایک قریبی ساتھی کو بھی دہشت گردی کی مالی معاونت کے جرم میں دو مقدمات میں سزا ہوئی ہے۔

ان مقدمات میں عدالت نے 6 فروری کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔یہ مقدمات پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی جانب سے لاہور اور گوجرانوالہ میں درج کئے گئے تھے۔دونوں مقدمات کی سماعت کے دوران عدالت میں 23 گواہان کے بیانات قلمبند کئے گئےتھے۔

محکمہ انسداد دہشت گردی نے پنجاب کے 5 شہروں میں مقدمات درج کرتے ہوئے مؤقف اپنایا تھا کہ الانفال ٹرسٹ، دعوت الارشاد ٹرسٹ، معاذ بن جبل ٹرسٹ وغیرہ جیسی فلاحی تنظیموں اور ٹرسٹ سے اکٹھا ہونے والی رقم اور فنڈز کو جماعت الدعوۃ نے دہشت گردوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال کیا۔