جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن کا انتقال، وزیر اعظم عمران خان کا اظہارِ غم

سید منور حسن گزشتہ تقریباً 2 ہفتے سے کافی بیمار تھے اور انھیں سینے میں تکلیف کے بعد اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ جمعہ کے روز ان کا انتقال ہوا جو ان کے شیدائیوں کے لیے باعث رنج و غم بنا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

گزشتہ کچھ دنوں سے بیمار چل رہے جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن کا کراچی کے ایک اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ یہ خبر پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں موجود ان کے شیدائیوں پر غم کا پہاڑ بن کر ٹوٹا ہے۔ 79 سالہ سید منور حسن کو سینے میں درد کی شکایت کے بعد تقریباً دو ہفتہ قبل علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، لیکن وہ صحت یاب نہ ہو سکے اور جمعہ کے روز اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔

سید منور حسن کے انتقال کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹ کر کے ان کی رحلت پر اظہارِ غم کیا ہے۔ انھوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ "سابق امیر جماعت اسلامی سید منور حسن صاحب کی رحلت پر نہایت رنجیدہ اور غمگین ہوں۔ میری دعائیں اور ہمدردیاں ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔" عمران خان کے علاوہ بھی کئی سیاسی و سماجی ہستیوں نے ان کے انتقال پر اظہار رنج و غم کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ سید منور حسن جماعت اسلامی کے چوتھے امیر منتخب ہوئے تھے اور انھوں نے سیاست میں یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے زمانہ سے ہی قدم رکھ دیا تھا۔ شروع میں انھوں نے نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (این ایس ایف) جوائن کیا تھا جہاں انھیں 1959 میں صدر منتخب کیا گیا تھا۔ بعد ازاں 1960 میں وہ اسلامی جمعیت طلبا کے رکن بن گئے۔ اسلامی جمعیت طلبا دراصل جماعت اسلامی کی طلبا تنظیم ہے۔ آگے چل کر منور حسن جماعت اسلامی کے ایک اہم رکن بن گئے۔ 2009 میں وہ جماعت اسلامی کے امیر منتخب کیے گئے تھے۔

Published: 27 Jun 2020, 10:30 AM