عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ مولانا مودودی کے بیٹے نے پڑھائی

معروف سماجی کارکن اور سینئر وکیل عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ بڑھتے لوگ، (انسیٹ میں عاصمہ جہانگیر)

پاکستان کے مشہور و معروف سماجی کارکنان اور سیاسی ہستیوں نے عاصمہ جہانگیر کے انتقال کو ناقابل تلافی نقصان قرار دیا اور ان کی ہمت و حوصلے کی تعریف کی۔

11 فروری کو دورۂ قلب سے انتقال کرنے والی پاکستان کی مشہور و معروف سماجی کارکن اور سینئر وکیل عاصمہ جہانگیر کی آخری رسومات آج نم آنکھوں سے ادا کی گئی۔ جماعتِ اسلامی کے بانی ابوالاعلیٰ مودودی کے بیٹے فاروق مودودی سمیت پاکستان کے کئی سرکاری افسران، مشہور و معروف ہستیاں، سماجی کارکنان اور عام شہریوں نے شرکت کی۔ نماز جنازہ فاروق مودودی کی قیادت میں لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں پڑھائی گئی۔ ایک پاکستانی خبر رساں ادارہ کے مطابق 66 سالہ عاصمہ جہانگیر کا جنازہ بیدیاں روڈ سے تدفین کے لیے لے جایا گیا جہاں ان کا جنازہ پہلے سے ان کے آبائی مکان میں رکھا ہوا تھا۔

اس سے قبل پاکستان کے کئی سماجی کارکنان اور سیاسی ہستیوں نے عاصمہ جہانگیر کے انتقال کو ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔ پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے عاصمہ کی خدمات اور حقوق انسانی کے لیے کیے گئے ان کے کاموں کی تعریف کرتے ہوئے انھیں قدآور اور بے خوف شخصیت قرار دیا۔ ایک کیس کی سماعت کے دوران جسٹس نثار نے کہا کہ ہر اس وکیل کو عاصمہ جہانگیر کی آخری رسومات میں شریک ہونا چاہیے جس کےپاس وقت ہے۔

واضح رہے کہ عاصمہ جہانگیر کی پیدائش 27 جنوری 1952 کو لاہور میں ہوئی تھی۔عاصمہ جہانگیرنے 1978 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعدانہوں نے قانون کے شعبے میں قدم رکھا اور اپنی مسلسل جدوجہد سے پاکستان سپریم کورٹ بار کی صدرمنتخب ہوئیں ۔عاصمہ جہانگیر کی زندگی میں اہم موڑاس وقت آیا جب وہ صرف 21 برس کی تھیں اور جنرل یحییٰ خان نے ان کے والد کو جیل میں ڈال دیا۔انہوں نے کیس لڑنے کے لئے لاہور کے وکلاء سے التجائیں کیں مگرسبھی وکیلوں نے ان کے والد کا کیس لڑنے سے منع کردیا۔ صورتحال کے پیش نظر عاصمہ نے کیس خود لڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ باہمت خاتون نے نہ صرف اپنے والد کو انصاف دلوایا بلکہ جنرل یحییٰ خان کی آمریت کو عدالت کے ذریعےغیر آئینی قرار دلوایا۔

عاصمہ جہانگیرغیر معمولی قائدانہ صلاحیتوں کی حامل تھیں اوروہ پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں کے بانیوں میں شمارکی جاتی تھیں۔یاد رہے کہ عاصمہ جہانگیر پاکستانی آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کے مقدمے میں9 فروری 2018 کو وہاں کی عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئیں تھیں ۔

سب سے زیادہ مقبول