شہباز شریف کے لئے مشکلیں بڑھا سکتے ہیں ان کے بیٹے

پاکستان میں جہاں یہ طے ہونا ہے کہ عمران خان کی حکومت اگر گر جاتی ہے تو کون وزیر اعظم ہو گا وہیں پاکستانی پنجاب میں پرویز الٰہی کے سامنے حمزہ شہباز شریف ہیں۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز شریف کے ذریعہ پنجاب کے وزیر اعلی کے لئے کاغذات نامزدگی داخل کرائے جانے کے بعد پاکستان میں موروثی سیاست کے بڑھتے رجحان پر بحث شروع ہو گئی ہے اور بہت ممکن ہے کہ اس کا اثر شہباز شریف کی سیاست پر پڑے۔

کل یعنی ہفتے کو پاکستان کی پنجاب اسمبلی کا اجلاس تقریباً چار گھنٹے تاخیر سے اسپیکر چوہدری پرویز الہٰی کی زیرِ صدارت شروع ہوا جس کے بعد سیکریٹری اسمبلی محمد خان بھٹی نے نئے قائدِ ایوان کے لیے شیڈول کا اعلان کیا۔ شیڈیول کے مطابق شام پانچ بجے تک اُمیدوار کاغذاتِ نامزدگی حاصل کر سکیں گے جب کہ چھ بجے تک اُن پر اعتراضات اُٹھائے جا سکتے ہیں جس کے بعد کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دیے جائیں گے۔شیڈول کا اعلان ہونے اور چوہدری پرویز الٰہی کی جانب سے اختیارات ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کو دیے جانے کے بعد اجلاس تین اپریل یعنی آج تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔


شیڈول کا اعلان ہوتے ہی وزارت اعلیٰ کے انتخاب کے لیے پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار چوہدری پرویز الہٰی اور اپوزیشن کے نامزد امیدوار حمزہ شہباز شریف نے سیکریٹری اسمبلی کے آفس میں کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ چوہدری پرویز الہٰی حکومتی اتحاد کے مشترکہ اُمیدوار ہیں جب کہ حمزہ شہباز شریف حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے متفقہ اُمیدوار ہیں۔ چوہدری پرویز الہٰی کو وزیرِ اعظم عمران خان نے عثمان بزدار کے استعفے کے بعد نیا وزیراعلیٰ نامزد کیا ہے۔

مرکز کی طرح پنجاب ریاست کے لئے بھی جو ڑ توڑ شروع ہو گیا ہے اور اگر پرویز الٰہی یہ بازی جیت جاتے ہیں تو یہ عمران خان کے لئے ایک اچھی خبر ہوگی اور اگر ایسا نہیں ہوا تو حمزہ شہباز شریف کے منتخب ہونے کی صورت میں عمراں کے لئے تو پریشانی کی خبر ہوگی ہی لیکن یہ خبر خود شہباز شریف کے لئے اچھی نہیں ہوگی کیونکہ عوام اور سیاسی رہنماؤں کے حلق سے یہ بات نیچے نہیں اترے گی کہ ملک کا وزیر اعظم باپ اور پنجاب ریاست کی باگ ڈور بیٹے کے ہاتھ میں ہو۔


دونوں دھڑے تحریک انصاف کے ناراض اراکین کے جہانگیر ترین کی قیادت میں بننے والے گروپ کی حمایت حاصل کرنے کے لیے زور لگا رہے ہیں جب کہ ترین گروپ نے لاہور میں حمزہ شہباز شریف کے ساتھ ملاقات کرنے کے بعد اُن کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔حمزہ شہباز کے ہمراہ مسلم لیگ (ن) کے وفد سے ترین گروپ کے 16 اراکین نے ملاقات کی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل علیم خان گروپ پہلے ہی حمزہ شہباز کی حمایت کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔ علیم خان گروپ کا دعوٰی ہے کہ اُن کے گروپ کے ارکان کی تعداد 10 ہے تاہم ذرائع ابلاغ میں اُن کے گروپ کے چار افراد ہی سامنے آئے ہیں۔

حمزہ شہباز شریف کے سیاست میں متحرک ہونے کے بعد اس بات پر مہر لگ گئی ہے کہ پاکستان میں موروثی سیاست ختم نہیں ہوگی کیونکہ بھٹو کے بعد ان کی بیٹی بے نظیر پھر ان کے شوہر زرداری اور پھر بے نظیر کے بیٹے بلاول اور اب ان کی بیٹیوں کی بھی سیاست میں آنے کی خبر ہے۔ ادھر نواز شریف کی بیٹی مریم نواز اور شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز شریف سیاسی طور پر متحرک ہیں ۔ آزاد حلقوں میں حمزہ شہباز شریف کے خلاف ااواز بلند ہونا شروع ہو گئی ہیں اور اس کا نقصان شہباز شریف کو ہو سکتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔