پاکستان

پاکستان اور قطر کے درمیان ایل این جی گیس معاہدہ تنازعات کا شکار

پاکستان اور خلیجی ریاست قطر کے درمیان فروری 2016 کو ایل این جی گیس فراہمی کا ایک معاہدہ طے پایا۔ دو سال سے زاید عرصہ گذر جانے کے بعد یہ پراجیکٹ آج بھی کئی تنازعات کی لپیٹ میں‌ ہے۔

تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

اسلام آباد: پاکستان اور خلیجی ریاست قطر کے درمیان فروری 2016 کو ایل این جی گیس فراہمی کا ایک معاہدہ طے پایا۔ دو سال سے زاید عرصہ گذر جانے کے بعد یہ پراجیکٹ آج بھی کئی تنازعات کی لپیٹ میں‌ ہے۔ اس کی وجہ پاکستان میں گیس کی قیمتوں میں‌ اضافہ اور معاہدے کی بعض خفیہ شقیں بتائی جاتی ہیں۔ پندرہ سال تک قطر کی جانب سے پاکستان کو ایل این جی گیس کی فراہمی کے بدلے میں پاکستان سولہ ارب ڈالر ادا کرے گا۔

قطر کے ساتھ طے پانے والے گیس فراہمی کے معاہدے اور پاکستان کو ایل این جی گیس کی درآمد پر ایک بار پھر حکومت اور اپوزیشن میں بحث ہوئی۔ بعض حکومتی شخصیات کے ساتھ ساتھ اپوزیشن نے ڈیل کے نکات اور شرائط پر قطر کے ساتھ دوبارہ مذاکرات پر زور دیا ہے۔ معاہدے کی خفیہ شقوں نے اسے پہلے ہی متنازع بنا ڈالا تھا مگر پاکستان میں گیس کی قیمتوں میں اضافے کے بعد منصوبے کا ازسر نو جائزہ لینے کا کہا جا رہا ہے۔

اقتصادی امور پر گہری نظر رکھنے والے پاکستانی تجزیہ نگار احمد مختار کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سابقہ حکومت نے توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے قطر کے ساتھ گیس کی ڈیل کی تھی، مگر معاہدے کے بعد خفیہ پہلو پر سوالیہ نشان ہیں۔ گیس کی قیمتوں کے بڑھنے کے بعد اس سودے پر دوبارہ مذاکرات حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سابقہ دور حکومت میں کی گئی ڈیل کی خفیہ شرائط سامنے لائے اور ڈیل میں ہونے والی مبینہ کرپشن کو بے نقاب کرتے ہوئے قوم کا پیسہ واپس لایا جائے۔

تاہم دوسری جانب مسلم لیگ نون نے قطر کے ساتھ گیس ڈیل میں کسی قسم کی خفیہ شرائط رکھنے کے تاثر کی نفی کی ہے۔ اب یہ موجودہ وزیراعظم عمران خان کی ذمہ داری ہے کہ وہ کرپشن کے خلاف جاری جنگ کے دوران اس معاہدے کی خفیہ شرائط کو سامنے لائیں۔

صحافی وتجزیہ کار شوکت پراچہ کا کہنا ہے کہ جب سے قطر کے ساتھ ڈیل ہوئی ہے کئی قسم کے شکوک اور سوالات اٹھتے چلے آ رہے ہیں۔ ایک شہری کی حیثیت سے مجھے یہ معلوم کرنے کا حق ہے کہ قطر کے ساتھ گیس ڈیل میں ہم سے کیا چیز مخفی رکھی گئی تھی۔

پاکستان ایک عرصے سے توانائی کے بحران سے گذر رہا ہے۔ ملک کو سالانہ دو ارب ڈالر مالیت کی 37 لاکھ 50 ہزار ٹن گیس کی ضرورت ہوتی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ قطر کے ساتھ طے پائی ڈیل کی تحقیقات سے پاکستان میں سرمایہ کاروں کو کاروبار کے مزید مواقع فراہم کرنے کے ساتھ انہیں سرمایہ کاری کے لیے اعتماد مہیا کرے گی۔

(بشکریہ العربیہ)