پی او کے زلزلہ: ہلاک شدگان کی تعداد 38، تازہ جھٹکوں سے دہشت

پاکستان مقبوضہ کشمیر میں ہولناک زلزلے کے بعد ہر طرف ملبے کا ڈھير لگا ہوا ہے، جاں بحق افراد کی تعداد 38 ہوگئی ہے جبکہ 600 سے زائد زخمی ہيں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

پاک مقبوضہ کشمیر کے ميرپور میں دو روز قبل آنے والے زلزلے سے تباہی کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 38 ہو گئی ہے، جبکہ 600 سے زائد زخمی افراد اسپتالوں میں زير علاج ہيں۔ زلزلہ کے بعد محسوس ہونے والے جھٹکے (آفٹر شاکس) لوگوں کو مزید دہشت زدہ کر رہے ہیں۔

روزنامہ ’جنگ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق 24 ستمبر کو آنے والے شدید زلزلے کے بعد سے علاقے میں آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے اور جمعرات کی صبح تیسری مرتبہ جھٹکے محسوس کیے گئے۔ تازہ محسوس کیے جانے والے آفٹر شاکس کے بعد علاقے کے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

پاکستانی میڈیا کے مطابق زلزلے کے باعث پی او کے کے سموال شریف میں سڑکوں، مکانوں، اسکولوں اور کالجوں کی ديواريں اور چھتيں گر گئيں۔ ادھر افضل پور میں سڑک کے ٹوٹ جانے کی وجہ سے آمد و رفت پوری طرح بند ہے جبکہ اپر جہلم مختلف جگہوں سے بیٹھ گئی ہے۔

مختلف علاقوں میں بجلی اور مواصلاتی نظام اب بھی متاثر ہے، زلزلے کی بھيانک رات بيشتر لوگوں نے گھروں سے باہر گزاری۔ دور دراز کے متاثرہ علاقوں تک امدادی ٹیموں کی رسائی کے لئے محکمہ شاہرات نے راستوں کی بحالی کا کام شروع کر دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے چھبيس ستمبر تک ضلع میرپور کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

ضلع میرپور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے بتایا کہ جاتلاں کے قريب 14 کلو میٹر تک سڑک بری طرح متاثر ہوئی ہے جس کا ساڑھے 3 کلو ميٹر کا علاقہ کلئير کر ديا گیا ہے۔

چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ کل شام تک سڑک ٹريفک کے لیے کھول دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ میرپور اور کوٹلی کو بجلی کی فراہمی بحال کر دی گئی ہے جبکہ 50 ہزار کے قريب پانی کی بوتليں شام تک متاثرہ علاقوں ميں پہنچ جائيں گی۔