نواز شریف اور بلاول بھٹو کے درمیان لندن میں کیا بات ہوئی؟

مسلم لیگ( ن) اور پی پی پی ایک دوسرے کے سخت سیاسی حریف تھے لیکن اب دونوں کے اتحاد سے پاکستان میں نئی حکومت قائم ہے۔

فائل تصویر آئی اےاین ایس
فائل تصویر آئی اےاین ایس
user

قومی آوازبیورو

مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاوال بھٹو کی کل لندن میں ملاقات ہوئی اور جیسا سمجھا جا رہا تھا کہ دونوں رہنما نئے گورنروں کی تقرری اور اہم عہدوں پر تقرریوں کے تعلق سے تبادلہ خیال کریں گے لیکن ملنے والی خبروں سے اندازہ لگایاجا سکتا ہے کہ اس موضوع پر بات چیت نہیں ہوئی۔

مشترکہ پریس کانفرنس، جس میں سوال پوچھنے کی اجازت نہیں تھی، سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کے دونوں رہنماؤں کا ملاقات کا مقصد تھا کہ مستقبل میں کس طرح مل کر کام کیا جا سکتا ہے۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے بتایا کہ اس ملاقات کا مقصد دونوں پارٹیوں کے درمیان طویل مدت کے لیے رشتے مضبوط کرنا اورچارٹر آف ڈیموکریسی یعنی میثاق جمہوریت کے مدوں پر تبادلہ خیال کرنا تھا ۔


بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پیپلز پارٹی کی ٹیم کی میاں نواز شریف اور ان کی ٹیم کے ساتھ یہ ملاقات کافی لمبی تھی جس کے بعد ذرائع ابلاغ سے دونوں رہنماؤں نےخطاب کیا ۔ اس خطاب میں دونوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی کا متعدد مرتبہ ذکر کیا۔

خیال رہے کہ سال 2006 کے دوران بلاول بھٹو کی والدہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان میثاق جمہوریت کے معاہدے میں دونوں جماعتوں کے درمیان بعض آئینی ترامیم، سیاسی نظام میں فوج کی حیثیت، نیشنل سکیورٹی کونسل، احتساب اور عام انتخابات کے بارے میں اتفاق رائے ہو گیا تھا۔


میاں نواز شریف نے بریفنگ میں کہا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے ملک کی معیشت تباہ کر دی ہے اور غریب کھانے کو بھی ترس گئے ہیں ۔ ان کے مطابق انہوں نے ملک کو ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سے اسے نکالنے میں بہت دشواریاں ہوں گی ۔ نواز شریف نے اس موقع پر فوج کی کوئی تنقید نہیں کی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔