بلوچ لبریشن فرنٹ نے پاکستان کی ناک میں کیا دَم، پہلی بار کسی حملہ میں خاتون فدائین کے استعمال کا دعویٰ
بی ایل ایف نے خود کش حملہ آور زرینہ رفیق کی تصویر جاری کی ہے۔ اس تنظیم کے مطابق زرینہ نے پاکستان فرنٹیئر کارپس کے سیکورٹی احاطہ میں داخل ہو کر سیکورٹی بیریئر کو توڑنے کے مقصد سے خود کو اڑا لیا۔

بلوچستان کے چاغی ضلع میں مسلح انقلابی تنظیم ’بلوچ لبریشن فرنٹ‘ (بی ایل ایف) نے خاتون فدائین کے ذریعہ پاکستان فرنٹیئر کارپس کے سیکورٹی احاطہ پر 30 نومبر کو حملہ کیا۔ یہ احاطہ چینی کمپنیوں کے ذریعہ آپریٹیڈ کاپر اور گولڈ مائننگ پروجیکٹس کا اہم مرکز تھا۔ اتوار کی شام کو ہوئے اس حملہ میں کم از کم 6 پاکستانی جوانوں کی موت ہو گئی تھی۔ اس حملہ کے بعد ایک اہم بات یہ سامنے آئی ہے کہ بی ایل ایف نے پہلی بار حملہ کے لیے کسی خاتون فدائین کا استعمال کیا۔
دراصل بی ایل ایف نے خود کش حملہ آور زرینہ رفیق (عرف ٹرانگ ماہو) کی تصویر جاری کی ہے۔ بی ایل ایف کا کہنا ہے کہ زرینہ نے پاکستان فرنٹیئر کارپس کے سیکورٹی احاطہ میں داخل ہو کر سیکورٹی بیریئر کو توڑنے کے مقصد سے خود کو اڑا لیا۔ یہ حملہ چینی اور کناڈائی کمپنیوں کے پروجیکٹس کو ہدف بنا کر کیا گیا۔ بی ایل ایف نے یہ بھی مطلع کیا کہ اس حملے کو ان کی خودکش یونٹ ’سعدو آپریشن بٹالین‘ (ایس او بی) نے انجام دیا ہے، جسے شہید کمانڈر وضع سعدو کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اس حملہ سے بی ایل ایف کی حکمت عملی اور فوجی صلاحیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
دوسری طرف ’بلوچ لبریشن آرمی‘ (بی ایل اے) نے بھی 29-28 نومبر کے درمیان پاکستانی فوجی جوانوں کو ہدف بنا کر کئی حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس تنظیم نے بتایا کہ ان حملوں میں 27 پاکستانی فوجی ہلاک ہو گئے اور انھوں نے ایک موٹر وے پر کنٹرول بھی حاصل کیا۔ گوادر واقع پاسنی علاقہ میں بی ایل اے نے ساحلی گارڈ کیمپ پر گرینیڈ لانچر کا استعمال بھی کیا۔ بی ایل اے کا کہنا ہے کہ جیوانی علاقہ میں انھوں نے ملٹری انٹلیجنس اہلکاروں کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا۔ مستنگ شہر میں ایک پاکستانی میجر کے گھر پر حملہ بھی کیا گیا اور کوئٹہ میں بھی فوجی ٹھکانوں پر 6 دھماکے ہوئے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔