آسیہ کہیں بھی جانے کے لئے آزاد: پاکستانی حکومت

پاکستان کے وزیر اطلاعات فواد چودھری نے مقامی اخبار دی ڈان سے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد آسیہ کہیں بھی جانے کے لئے آزاد ہیں۔ وہ جہاں جانا چاہتی ہیں جا سکتی ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

اسلام آباد: پاکستان کی سپریم کورٹ نے توہین رسالت معاملہ میں آسیہ بی بی کے خلاف نظرثانی کی عرضی منسوخ کرنے کے بعد اس معاملہ پر ہو رہی سیاست کے درمیان پاکستان حکومت نے کہا ہے کہ آسیہ بی بی کہیں بھی جانے کے لئے آزاد ہیں۔

پاکستان کے وزیراطلاعات فواد چودھری نے مقامی اخبار دی ڈان سے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد آسیہ کہیں بھی جانے کے لئے آزاد ہیں۔ وہ جہاں جانا چاہتی ہیں، جا سکتی ہیں۔ انہیں ملک چھوڑ کر کب جانا ہے یہ فیصلہ پوری طرح سے ان پر منحصر کرتا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس 31 اکتوبر 2018 کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو پلٹتے ہوئے آسیہ کو سنائی گئی پھانسی کی سزا منسوخ کرتے ہوئے انہیں رہا کر نے کی ہدایت دی تھی۔ آسیہ کو ملتان جیل سے رہا ہونے کے بعد خصوصی طیارہ سے اسلام آباد لایا گیا لیکن اس وقت آسیہ کہاں ہے اس بات کو خفیہ رکھا گیا ہے۔

آسیہ کو رہا کرنے کے فیصلے کے خلاف پاکستان کے سخت گیروں کے احتجاجی مظاہرہ کے بعد کناڈا اور اٹلی نے آسیہ کو اپنی شہریت دینے کی پیشکش کی۔ آسیہ کے شوہر عاشق مسیح نے کہا تھا کہ آسیہ کی رہائی کی مخالفت کرنے والے لوگوں سے اس کی جان کو خطرہ ہے۔

واضح رہے کہ پاکستانی سپریم کورٹ نے 31 اکتوبر 2018 کو توہین رسالت معاملہ میں سزائے موت پانے والی آسیہ بی بی کی سزا کالعدم قرار دے کر ان کی رہائی کا حکم جاری کر دیا تھا۔ آسیہ بی بی کی سزا کالعدم قرار دینے اور رہائی کے خلاف قاری محمد سلام نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی اپیل دائر کی تھی۔ اپیل 29 جنوری کو ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر مسترد کر دی کہ مدعی فیصلے میں ایک بھی غلطی نہیں بتا سکے اور انہیں فیصلے کے تعلق سے عام باتوں پر اعتراض ہے، فیصلے پر نہیں۔

ضلع شیخوپورہ میں جون 2009ء میں فالسے کے کھیتوں میں کام کے دوران 2 مسلمان خواتین کا آسیہ مسیح سے جھگڑا ہوا جس کے بعد ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز کلمات کہے۔ آسیہ بی بی کے خلاف ان کے گاؤں کے امام مسجد قاری سلام نے پولس میں مقدمہ درج کرایا، 5 روز بعد درج ایف آئی آر کے مطابق آسیہ بی بی نے توہین رسالت کا اقرار بھی کیا۔

امام مسجد کے بیان کے مطابق آسیہ بی بی کے مبینہ توہین آمیز کلمات کے بارے میں پنچایت ہوئی، جس میں ہزاروں افراد کے شرکت کرنے کا دعوی کیا گیا تھا لیکن جس مکان کا ذکر کیا گیا، وہ بمشکل پانچ مرلے کا تھا۔ مقدمے کے اندراج کے بعد آسیہ بی بی کو گرفتار کرلیا گیا اور بعد ازاں ٹرائل کورٹ نے 2010 میں توہین رسالت کے جرم میں 295 سی کے تحت انھیں سزائے موت سنا دی، جسے انہوں نے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔

تاہم لاہور ہائی کورٹ نے اکتوبر 2014 میں ٹرائل کورٹ کے فیصلہ کو برقرار رکھا تھا۔ جس پر 2014 میں ہی آسیہ بی بی کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کی گئیں۔ ان اپیلوں پر سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے گذشتہ برس 8 اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کرلیا تھا، جو 31 اکتوبر کو سنایا گیا، جس میں عدالت نے آسیہ بی بی کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔