’اللہ حافظ‘ عمران خان... ظفر آغا

بے چارے عمران خان! وہ سمجھ رہے تھے کہ سیاست بھی کرکٹ کا کھیل اور خود کو سیاست کا کیپٹن سمجھ رہے تھے لیکن وہ یہ بھول گئے کہ پاکستان کا وزیر اعظم محض نام کا کیپٹن ہوتا ہے اور وہ اسی دھوکے میں مارے گئے

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان / Getty Images
پاکستانی وزیر اعظم عمران خان / Getty Images
user

ظفر آغا

’اللہ حافظ‘ عمران خان! جی ہاں، پاکستانی فوج نے بظاہر عمران خان کو ’اللہ حافظ‘ کر دیا۔ اتوار یعنی آج تین اپریل کو پاکستانی پارلیمنٹ میں جس عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ ہونے والی تھی، اس میں عمران کے ہارنے کی توقع تھی لیکن اس سے پہلے ہی پاکستان کی قومی اسمبلی میں ایک ایسا فیصلہ ہوا جسے مبصرین غیر آئینی قرار دے رہے ہیں۔ قومی اسمبلی میں اسپیکر نے عدم اعتماد کی تحریک کو مسترد کر دیا ہے اور عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا کہ انہوں نے صدر جمہوریہ کو تمام اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کی سفارش بھیج دی ہے۔ حزب اختلاف احتجاج کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں بیٹھ گئی اور ان کی قانونی ٹیم عدالت سے رجوع کرنے سپریم کورٹ پہنچ گئی ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ عمران خان کے لئے یہ حالات کیوں پیدا پوئے اور پاکستانی سیاست میں یہ کایا پلٹ آخر ہوئی کیوں؟ عمران تو پاکستانی فوج کے چہیتے تھے، پھر بھی آخر فوج ان کے خلاف کیوں ہو گئی؟ یوں تو پاکستانی سیاست میں کسی وزیر اعظم کا اپنی مدت کار ختم کرنے سے قبل اقتدار سے باہر ہو جانا کوئی حیرت ناک بات نہیں ہے، بلکہ یہ کہا جائے کہ یہ تو پاکستانی سیاست کی روایت ہے تو بیجا نہ ہوگا۔ کیونکہ سنہ 1970 کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر عمران خان تک کسی بھی وزیر اعظم نے اقتدار میں اپنی پانچ سال کی مدت پوری نہیں کی۔ ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو کو تو فوج نے مروا ہی دیا تھا۔ باپ ذوالفقار کو جنرل ضیاء الحق نے ایک فرضی قتل کے الزام میں سولی چڑھوا دیا اور بیٹی بے نظیر کو جنرل پرویز مشرف کے اشارے پر گولی مار دی گئی تھی۔ نواز شریف خوش قسمت تھے کہ فوج نے ان کو دو بار اقتدار سے باہر کیا مگر ان کا وہ حشر نہیں کیا جو بھٹو خاندان کا کرتی رہی۔ مگر دونوں بار نواز شریف نے پاکستان سے بھاگ کر پناہ لی۔ اب عمران خان کے استعفیٰ کے بعد ان کا کیا حال ہوتا ہے یہ بھی فوج ہی طے کرے گی۔


دراصل پاکستانی سیاست کا بنیادی اصول یہی ہے کہ وہاں فوج جس کو چاہتی ہے وہی وزیر اعظم بنتا ہے اور جس سے ناراض ہو جاتی ہے وہ باہر ہو جاتا ہے۔ اب تو ہر کس و ناکس یہ جانتا ہے کہ عمران کو اقتدار میں لانے والی بھی فوج ہی تھی۔ ہوا یہ کہ سنہ 2015 میں فوج اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف سے ناراض ہو گئی۔ نواز شریف کا گناہ یہ تھا کہ انھوں نے ہندوستانی وزیر اعظم کو فوج کی اجازت کے بغیر لاہور اپنے گھر بلا لیا۔ وہ بھی بڑا دلچسپ قصہ ہے۔ ہوا یوں کہ 2015 میں مودی کابل کے دورے پر تھے۔ جس روزہ وہ وہاں سے لوٹ رہے تھے تو اسی روز نواز شریف کا یوم پیدائش تھا۔ مودی نے میاں صاحب کو فون کیا، مبارکباد دی اور کہا دل تو چاہ رہا ہے کہ آپ کو خود آ کر آپ کے گھر اس موقع پر گلے لگاؤں۔ میاں صاحب نے جواب دیا، میرے گھر کے دروازے آپ کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں۔ لیجیے، مودی صاحب کچھ گھنٹوں میں میاں نواز شریف کے گھر لاہور موجود تھے۔ کیک کٹا، دونوں وزیر اعظم گلے ملے۔ تحفہ تحائف لیے دیے گئے اور پھر مودی جی واپس دہلی آ گئے۔ پاکستانی فوجی سیاسی اصول و قواعد کے اعتبار سے یہ گناہ تھا۔ اس وقت تو فوجی جنرل خون کا گھونٹ پی کر رہ گئے، مگر یہ طے ہو گیا کہ اب جلد ہی میاں صاحب کا ’اللہ حافظ‘ کر دیا جائے۔ اور وہی ہوا۔

پرلطف بات یہ ہے کہ میاں نواز شریف کے ساتھ وہی ہوا جو ہندوستان میں منموہن سنگھ کے ساتھ ہو چکا تھا۔ جیسے منموہن سنگھ کے خلاف انا ہزارے آسمان سے ٹپک پڑے تھے اور ہندوستان بدعنوانی مٹانے کی تحریک سے گونج اٹھا تھا، ویسے ہی نواز شریف کے خلاف پاکستانی پارلیمنٹ اور سڑکیں بدعنوانی کے الزام میں گونج اٹھیں۔ فوج نے اس تحریک کی کمان عمران خان کے ہاتھوں میں رکھی۔ جیسے ہمارے ٹی وی چینلوں نے انا ہزارے کو اس وقت ہیرو بنا دیا تھا، ویسے ہی پاکستانی میڈیا نے عمران کو پاکستان کا ’مسٹر کلین‘ بنا دیا۔ راتوں رات عمران مڈل کلاس ہیرو بن گئے۔ چناؤ ہوئے اور نواز شریف فوج کی منشا کے مطابق چناؤ ہار گئے۔ عمران خان وزیر اعظم بن گئے اور کہا یہ جاتا تھا کہ وہ فوج کے چہیتے تھے۔ مگر آخر فوج ان سے بھی ناراض ہو گئی اور خان صاحب اقتدار سے آؤٹ ہو گئے۔


مگر فوج عمران سے بگڑ کیوں گئی! عمران خان سے آخر وہی غلطی ہوئی جو اس سے قبل دوسرے پاکستانی وزرائے اعظم سے ہو چکی تھی۔ میڈیا میں اپنی شہرت دیکھ کر عمران کو یہ مغالطہ ہو گیا کہ ان کا قد پاکستانی فوج سے بھی بلند ہو گیا ہے۔ وہ یہ بھول گئے کہ پاکستانی سیاست کی طرح پاکستانی میڈیا بھی فوج کے ہی اشارے پر چلتا ہے۔ اور وہ اس مغالطے میں فوج سے ٹکر لے بیٹھے۔ فوج کے لیے پاکستان کے امور خارجہ اور ملک کی سیکورٹی دو ایسے معاملات ہیں جن کا فیصلہ فوج ہی کرتی ہے۔ خصوصاً فوج سے متعلق کوئی بھی بات ہو اس میں پاکستانی وزیر اعظم کا رول فوج کی مرضی کے مطابق محض صاد کرنے تک محدود ہوتا ہے۔ ہوا یہ کہ آئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید کے ریٹائرمنٹ کا وقت ہو گیا۔ عمران خان کی خواہش یہ تھی کہ جنرل فیض حمید اپنے عہدے پر برقرار رہیں۔ جب کہ فوج نے ان کی جگہ جنرل ندیم انجم کا نام وزیر اعظم کو بھیجا۔ عمران خان تین ہفتے تک جنرل ندیم انجم کے نام کو دبائے بیٹھے رہے اور اس خبر کو لیک کر انھوں نے فوج سے اپنی خفگی کا بھی اعلان کر دیا۔ ہماری بلی ہم ہی سے میاؤں۔ بس فوج خان صاحب سے اکھڑ گئی اور طے ہو گیا کہ عمران کی چھٹی کا وقت آ گیا ہے۔ بس آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ اب عمران خان اقتدار سے باہر ہیں۔ اپنی سیاست میں جگہ بنائے رکھنے کو وہ اب امریکہ کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ باقی تمام پاکستانی وزرائے اعظم کی طرح فوج کے ہی شکار ہوئے ہیں اور اب واویلا کر رہے ہیں۔

فوج نے عمران کی پیٹھ میں تو چھرا گوھنپ دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کس کو اقتدار میں لایا جائے۔ جناب اب تو کل کے دشمن آج کے فوج کے دوست بن گئے ہیں۔ یعنی فوج اور شریف خاندان کے درمیان صلح صفائی ہو چکی ہے۔ فوج میاں نواز شریف کے ہاتھوں میں تو اقتدار دینے کو راضی نہیں۔ وہ لندن میں ہیں اور ان پر کئی مقدمے بھی قائم ہیں۔ ان کی جگہ ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف کی وزیر اعظم بننے کی باری ہے۔ شہباز شریف صوبہ پنجاب کے دو بار وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔ پنجابی عوام و خواص میں مقبول بھی ہیں۔ اقتدار واپس پنجابیوں کے ہاتھوں میں رہے یہ فوجی اور جمہوری پاکستانی نظام کے ہاتھوں میں رہے یہ سب کے حق میں ہے۔ اس لیے شریف خاندان جلد ہی فوج کے اشارے پر ایم کیو ایم جیسی چھوٹی پارٹیوں کی حمایت سے برسراقتدار ہوگا۔ لیکن شریف خاندان اور فوج میں آخر ڈیل ہوئی کیسے! دو باتیں ممکن ہیں۔ پہلی تو یہ کہ شریف خاندان پاکستان کے سب سے بڑے سرمایہ داروں میں سے ایک ہے۔ فوج سے جھگڑے میں اقتدار تو گیا ہی، سرمایہ بھی ڈوب رہا تھا۔ اس لیے فوج کے ساتھ چلنے میں ہی بقا تھی۔ سو فوج کا حکم سر آنکھوں پر۔ اس طرح فوج بھی خوش اور شریف خاندان کے دونوں ہاتھوں میں لڈو بھی۔ یعنی اقتدار میں واپسی بھی اور سرمایہ بھی محفوظ۔ دوسری بات جو اس ڈیل کے بارے میں کہی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستانی فوج اس وقت ہندوستان سے امن کی خواہاں ہے۔ فوج سمجھ چکی ہے کہ مودی کے رہتے اینٹی انڈیا پالیسی زیادہ چل نہیں سکتی ہے۔ اور شریف خاندان ایک ایسا خاندان ہے جو ہندوستان کے ساتھ مفاہمت میں کارگر رہے گا۔ آخر نواز شریف اور نریندر مودی کے ذاتی تعلقات بہت اچھے ہیں۔ نواز شریف پس پردہ یہ کام بخوبی سرانجام دے سکتے ہیں اور اس طرح آہستہ آہستہ ان کے مقدمات بھی ختم ہوتے رہیں گے۔ فوج بھی خوش، شریف بھی راضی، تو پھر مشکل کیا۔


بے چارے عمران خان! وہ سمجھ رہے تھے کہ سیاست بھی کرکٹ کا کھیل ہے کہ جس میں ان کو کوئی ہرا نہیں سکتا۔ لیکن سیاست میں فیلڈ پاکستانی فوج طے کرتی ہے۔ وزیر اعظم محض نام کا کیپٹن ہوتا ہے۔ بس عمران خان اپنے کو سیاست کا بھی کیپٹن سمجھنے لگے اور اسی دھوکے میں مارے گئے۔ سیاسی طور پر ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ عمران خان اب سیاسی طورپر بے چارے ہو گئے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 03 Apr 2022, 2:06 PM