پاکستان میں دردناک بس-ٹرین حادثہ، 30 افراد ہلاک، متعدد زخمی

حادثہ سکّور ضلع کے روہری علاقہ میں ہوا۔ بس کراچی سے سرگودھا کی طرف جا رہی تھی۔ بس جب ریلوے کراسنگ کو پار کر رہی تھی تبھی وہاں ٹرین آ گئی اور بس کو کھینچتی ہوئی دور لے گئی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

پاکستان کے سندھ علاقہ میں آج ایک انتہائی دردناک حادثہ پیش آیا جس میں کم و بیش 30 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ یہ حادثہ اس ریلوے کراسنگ پر ہوا جہاں حفاظت کے لیے کوئی ملازم نہیں تھا اور بس اس کراسنگ کو پار کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ کراسنگ پار کرتے وقت اچانک ٹرین سامنے سے آئی اور تقریباً 200 فٹ تک بس کو کھینچتی ہوئی چلی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر افراد جائے وقوع پر ہی ہلاک ہو گئے جب کہ زخمی کئی افراد کا علاج قریبی اسپتال میں چل رہا ہے اور جن میں کچھ کی حالت سنگین بنی ہوئی ہے۔

میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق واقعہ سکّور ضلع کے روہری علاقہ میں ہوا۔ بس کراچی سے سرگودھا کی طرف جا رہی تھی۔ بس جب کھلی بغیر انسانوں والی ریلوے کراسنگ کو پار کر رہی تھی تبھی وہاں ٹرین آ گئی۔ سکّور کے کمشنر شفیق احمد مہیسر نے واقعہ کی تصدیق کی اور بتایا کہ زخمیوں کا علاج قریب کے اسپتال میں چل رہا ہے۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے واقعہ پر نوٹس لیا اور سکّور کے کمشنر کو ہدایت دی کہ راحت رسانی کا کام جلد سے جلد شروع ہو۔ ساتھ ہی سبھی زخمیوں کو بہتر علاج کے لیے بھی ہدایت جاری کی گئی۔

پاکستان میں دردناک بس-ٹرین حادثہ، 30 افراد ہلاک، متعدد زخمی

حادثہ کے بعد سکّور ضلع پولس کے آئی جی ڈاکٹر جمیل احمد نے بتایا کہ یہ ایک بے حد ہی بھیانک حادثہ تھا۔ ٹرین سے ٹکراتے ہی بس کے پرخچے اڑ گئے اور وہ تین حصوں میں ٹوٹ گئی۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ٹکر اتنی شدید تھی کہ ٹرین بس کو تقریباً 150 سے 200 فٹ تک اپنے ساتھ کھینچ کر لے گئی۔ اس حادثہ کے موقع پر افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا تھا۔