پاکستان میں فرضی لائسنس والے 28 پائلٹ برطرف

وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں ہوئے کابینہ اجلاس میں فرضی لائسنس کی مدد سے ایئرلائنز میں خدمات انجام دینے والے پائلٹوں کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ ہوا

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

اسلام آباد: حکومت پاکستان نے فرضی لائسنس کی مدد سے ملک کی مختلف ایئر لائنز میں تعینات 28 پائلٹوں کو برطرف کردیا ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق منگل کے روز وزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں ہوئے کابینہ کے اجلاس میں فرضی لائسنس کی مدد سے ایئر لائنز میں خدمات انجام دینے والے پائلٹوں کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک دیگر کاروائی کے تحت پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے دو خواتین پائلٹوں سمیت 34 مزید پائلٹوں کے لائسنس معطل کردیئے ہیں۔ معطل پائلٹوں کے لائسنس کی جانچ کے بعد کابینہ اس پر فیصلہ کرے گی۔

اس سے قبل جون میں ملک کے شہری ہوا بازی کے محکمہ نے سرکاری ایئر لائنزکمپنی پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز ، ایئر بلو اور سیرین ایئرسمیت کئی ایئر لاینز کے 160 پائلٹوں کے لائسنس کو مشکوک قرار دیتے ہوئے جانچ عمل مکمل ہونے تک ایئر لائنز کی انتظامیہ کوانہیں ہٹانے کی ہدایت دی تھی ۔

پاکستان کراچی میں حال ہی میں طیارہ حادثے کی جانچ کے دوران احکام کو پائلٹوں کے مشکوک ریکارڈ ملنے کے بعد محکمہ شہری ہوا بازی کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی ان کے لائسنسوں کی جانچ کررہی ہے۔ اس حادثے میں عملے کے اراکین سمیت 97 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

    Published: 8 Jul 2020, 1:33 PM
    next