زیلنسکی مادورو کی گرفتاری معاملے پر ٹرمپ کے ساتھ کھڑے نظر آئے!
وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی سے متعلق یوکرینی صدر کا بیان وائرل ہو رہا ہے۔ انہوں نے پوتن کا نام لیے بغیر روس کو طنزیہ انداز میں نشانہ بنایا۔

وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری نے یقیناً پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ امریکہ کے اس اقدام پر کئی ممالک کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا ایک بیان بھی جاری کیا گیا ہے۔ زیلنسکی نے یہ بیان کسی رہنما کا نام لیے بغیر طنزیہ لہجے میں دیا۔
جب وینزویلا کے خلاف ڈونالڈ ٹرمپ کی کارروائی پر ان کا ردعمل پوچھا گیا تو زیلنسکی نے طنزیہ انداز میں کہا، "اگر اس طرح آمروں سے نمٹنا ممکن ہے، تو امریکہ جانتا ہے کہ آگے کیا کرنا ہے۔"یوکرینی صدر نے تاہم کسی رہنما کا نام نہیں لیا۔ تاہم، یہ سمجھا گیا کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کا حوالہ دے رہے تھے۔ زیلنسکی نے یہ بیان یورپی ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں سے ملاقات کے بعد دیا۔
3 جنوری کو امریکہ نے کاراکاس پر فوجی حملہ کیا۔ اس کارروائی میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر لیا گیا۔ دونوں کو امریکہ کے حوالے کر دیا گیا ہے اور انہیں مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
خبر ہے کہ امریکہ کسی بھی ذریعہ وینزویلا کا انتظامی کنٹرول سنبھال لے گا اور تیل کے وسیع ذخائر کو دوسرے ممالک کو فروخت کرنے کے منصوبے پر کام کرے گا۔مادورو پر منشیات کی اسمگلنگ کا الزام ہے۔ وینزویلا کے حکام نے ان پر 2020 میں منشیات کی اسمگلنگ کا الزام لگایا۔ امریکی محکمہ انصاف نے مادورو کی حکومت کو بدعنوان اور ناجائز قرار دیا۔
امریکی فوجی آپریشن صرف 30 منٹ تک جاری رہا، اس دوران سات دھماکے ہوئے۔ روس نے اس اقدام پر تنقید کی ہے۔ روس نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا ایک خودمختار ملک کے قانونی طور پر منتخب صدر اور ان کی اہلیہ کو رہا کرے۔ چین نے بھی دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔