مغربی ایشیا بحران: ’یکطرفہ معاہدوں کا دور ختم‘، ایرانی اسپیکر قالیباف کا سخت ردعمل
قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ’’ہم پہلے ہی کہہ چکے تھے، وعدہ پورا کرو، ورنہ قیمت ادا کرو۔ اب حقیقت سب کے سامنے ہے۔‘‘

ایران اور امریکہ کے درمیان فضائی حملوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ دونوں مملک کے بیچ کشیدگی میں تیزی پوری دنیا کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اس دوران ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا کہ اب یکطرفہ معاہدوں کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اپنے سخت اور جارحانہ مؤقف کے لیے معروف قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ’’ہم پہلے ہی کہہ چکے تھے، وعدہ پورا کرو، ورنہ قیمت ادا کرو۔ اب حقیقت سب کے سامنے ہے۔‘‘ انہوں نے اپنی پوسٹ کے ساتھ امریکہ۔ایران معاہدے کے مسودے کے آرٹیکل-5 کی تصویر بھی شیئر کی۔ یہ آرٹیکل آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ہے۔ اسی معاملے پر تنازعہ بڑھا اور اس نے ایک بار پھر فوجی تصادم کی شکل اختیار کرلی ہے۔ اس دوران ایرانی فوج نے امریکہ سے جون میں ہونے والے معاہدے (ایم او یو) پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں امریکہ کی مداخلت اور متبادل سمندری راستہ بنانے کی کوشش سے خطے میں عدم تحفظ بڑھا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی فوج آبنائے ہرمز میں ملک کے حقوق کا پوری مضبوطی کے ساتھ دفاع کرے گی۔ ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت سے متعلق مستقبل کے فیصلے صرف ایران اور عمان کی باہمی مشاورت سے ہونے چاہییں۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ہفتے کے روز مسقط میں دونوں ممالک کے قانونی اور تکنیکی وفود کے درمیان اس معاملے پر بات چیت ہوئی۔ اجلاس میں ’’آبنائے ہرمز کی سلامتی، جہازوں کی محفوظ آمد و رفت اور دونوں ممالک کے خودمختار حقوق‘‘ پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے بھی خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ اتوار کے روز بحرین میں امریکی فوجی اڈے سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں فوجی اڈے کے اوپر دھویں کے بادل دکھائی دے رہے ہیں۔ اس سے قبل ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بحرین میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ بحرین میں بھی میزائل الرٹ جاری کیا گیا تھا اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی تھی۔
