’ہم نہیں چاہتے کہ شام میدان جنگ بنے‘، شامی صدر احمد الشرع نے غیر جانبدار رہنے کا کیا عزم

شامی صدر احمد الشرع نے لندن میں کہا کہ ’’ہم پہلے ہی بہت جنگ جھیل چکے ہیں اور اس کی بھاری قیمت چکائی ہے۔ اب ہم ایک اور جنگ کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>شام کے صدر احمد الشرع / تصویر بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ میں گزرتے وقت کے ساتھ کشیدگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ اس درمیان شامی صدر احمد الشرع نے اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے۔ شامی صدر نے کہا کہ ان کا ملک اس جنگ سے اس وقت تک دور رہے گا جب تک شام پر کوئی حملہ نہیں ہوتا یا سفارتی متبادل مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتے۔

شامی صدر احمد الشرع نے لندن میں منعقدہ ایک پروگرام کے دوران کہا کہ جب تک شام کو کسی بھی فریق کے ذریعہ نشانہ نہیں بنایا جاتا تب تک وہ کسی بھی تنازعہ میں شامل نہیں ہوگا۔ انہوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’ہم نہیں چاہتے کہ شام میدان جنگ بنے۔‘‘ احمد الشرع کے مطابق مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال سمجھداری سے نہیں، بلکہ غیر یقینی اور غیر مستحکم حالات میں چل رہی ہے۔


شامی صدر نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں حالات تیزی سے بگڑ رہے ہیں اور کسی بھی وقت بڑا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ سے جاری یہ جنگ پورے علاقے میں پھیل چکا ہے، جس میں ہزاروں لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ ساتھ ہی توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے اور عالمی معیشت پر بھی خطرات منڈلا رہے ہیں۔

احمد الشرع نے کہا کہ شام لبنان، عراق، ترکیہ اور سعودی عرب جیسے ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات قائم رکھنا چاہتا ہے۔ ساتھ ہی برطانیہ، فرانس، جرمنی اور امریکہ جیسی عالمی طاقتوں کے ساتھ بھی مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری قائم رکھنا چاہتا ہے۔ شام اس علاقائی جنگ سے خود کو دور رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جس میں پڑوسی ممالک بھی شامل ہو چکے ہیں۔ لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان لڑائی جاری ہے، جبکہ عراق میں ایران کے حمایت یافتہ گروپ ڈرون اور راکٹ سے حملے کر رہے ہیں۔


قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ماہ کی شروعات میں شام نے لبنان اور عراق کی سرحدوں پر ہزاروں فوجی تعیانت کیے ہیں۔ وزارت دفاع کے مطابق یہ قدم بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے درمیان سرحدوں کے تحفظ اور کنٹرول کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ شامی صدر احمد الشرع نے کہا کہ ’’ہم پہلے ہی بہت جنگ جھیل چکے ہیں اور اس کی بھاری قیمت چکائی ہے۔ اب ہم ایک اور جنگ کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔