’بعض خلیجی ممالک پر حالیہ حملے غلط فہمی کی وجہ سے ہوئے‘، ایرانی صدر پیزشکیان کی توضیح

پیزشکیان نے کہا کہ بعض خلیجی ممالک پر حالیہ حملے غلط فہمی کی وجہ سے ہوئے ہیں اور تہران ایسے واقعات کو روکنے کی کوشش کرے گا جب تک کہ ان ممالک کی سرزمین سے ایران پر کوئی حملہ نہ کیا جائے۔

<div class="paragraphs"><p>ایرانی صدر مسعود پیزشکیان۔ تصویر ’انسٹاگرام‘</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے امریکی مطالبے کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی توقع محض ایک خواب ہے جو کبھی پورا نہیں ہو گا۔ سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک ریکارڈ شدہ پیغام میں ایرانی صدر نے امریکہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔ تاہم صدر پیزشکیان نے اپنے بیان میں علاقائی ممالک پر حملوں پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔

پیزشکیان نے کہا کہ بعض خلیجی ممالک پر حالیہ حملے غلط فہمی کی وجہ سے ہوئے ہیں اور تہران ایسے واقعات کو روکنے کی کوشش کرے گا جب تک کہ ان ممالک کی سرزمین سے ایران پر کوئی حملہ نہ کیا جائے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق صدر نے کہا کہ ایران کی عبوری قیادت کونسل نے گزشتہ روز اس فیصلے کی منظوری دی ہے۔ ایران کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہفتے کی صبح بحرین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر حملوں کی خبریں سامنے آئی ہیں، جس سے پورے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔


اسی دوران روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایرانی صدر پیزشکیان سے فون پر بات کی ہے۔ بات چیت کے دوران پوتن نے خطے میں جاری تنازعات کو فوری طور پر روکنے اور امن کی جانب قدم بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ روسی صدر نے بات چیت کے دوران اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران سے متعلق تنازعات کو سیاسی اور سفارتی طریقوں سے حل کیا جانا چاہیے نہ کہ طاقت کے ذریعے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر تمام فریقین تحمل سے کام لیں اور بات چیت کے ذریعے حل تلاش کریں۔

خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں مغربی ایشیا میں صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے پر ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کے بعد 28 فروری کو جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران نے اسرائیل سمیت مغربی ایشیا کے 13 ممالک کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازعات کے درمیان ایران کی عسکری سرگرمیوں پر عالمی برادری کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ ایران نے پہلے ہی آگاہ کردیا تھا کہ اگرملک پر حملہ کیا گیا تو حملہ آور کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جائے گا خواہ وہ کہیں بھیں ہوں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔