ایران۔ اسرائیل جنگ کی سنسنی خیز رپورٹنگ پر حکومت کی کارروائی، نیوز چینلوں کی ٹی آر پی رپورٹ پر لگائی روک

وزارت کے حکم میں ہندوستان میں ٹیلی ویژن ریٹنگ ایجنسیوں کے لیے پالیسی گائیڈلائنز کے سیکشن 24.2 کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ سیکشن کمپنیوں کو وزارت کی طرف سے جاری کردہ ہدایات کی تعمیل کرنے کا پابند کرتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ٹی وی چیینل / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران ٹی وی چینلوں پر’دھماکہ خیز‘ اور’سنسنی خیز‘ کوریج کے نام پر کی جا رہی ’لفاظی‘ کے خلاف حکومت نے سخت قدم اٹھایا ہے۔ مرکزی وزارت اطلاعات و نشریات نے براڈکاسٹ آڈینس ریسرچ کونسل (بی اے آرسی) کو نیوز چینلوں کی ٹیلی ویژن ریٹنگ پوائنٹس (ٹی آر پی) رپورٹنگ روکنے کا حکم دیا ہے۔ یہ پابندی 4 ہفتے یا اگلے احکامات تک، جو بھی پہلے ہو، نافذ رہے گی۔ وزارت نے اسرائیل۔ایران تنازعہ کے درمیان سنسنی خیز اور قیاس آرائیوں پر مبنی مواد پر تشویش کا اظہار کیا۔

وزارت نے جمعہ کے روز جاری ایک سرکاری حکم نامے میں کہا کہ اس طرح کا مواد عام لوگوں میں خوف و ہراس کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پران لوگوں کے لیے جن کے دوست اور خاندان متاثرہ علاقوں میں ہیں۔ وزارت کے حکم میں ہندوستان میں ٹیلی ویژن ریٹنگ ایجنسیوں کے لیے پالیسی گائیڈلائنز کے سیکشن 24.2 کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ سیکشن کمپنیوں کو وزارت کی طرف سے جاری کردہ ہدایات کی تعمیل کرنے کا پابند کرتا ہے۔ اس کے تحت بی اے آر سی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ٹی آر پی رپورٹنگ کو فوری طور پر روکے تاکہ خبروں کی ذمہ دارانہ نشریات کو یقینی بنایا جا سکے۔


اس سلسلے میں بی پی اینڈ ایل کے ایڈیشنل ڈائریکٹر گوری شنکر کیسروانی نے کہا کہ عوامی مفاد میں وزارت بی اے آر سی کو نیوز چینلوں کے لیے ٹیلی ویژن ریٹنگ پوائنٹس (ٹی آر پی) کی رپورٹنگ کو 4 ہفتوں کے لیے یا اگلے احکامات تک، جو بھی پہلے ہو، فوری طور پرروکنے کام حکم  دیتی ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ پیش رفت مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سامنے آئی ہے۔

وزارت نے کہا کہ اس طرح کی رپورٹنگ سے عوام میں غیر ضروری خوف اور الجھن پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ ہدایت ان لوگوں کے لیے خاص طور پر اہم ہے جن کے خاندان کے افراد جنگ سے متاثرہ علاقوں میں رہتے ہیں۔ وزارت کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ خبریں ذمہ داری اور حساسیت کے ساتھ نشر کی جائیں۔ یہ اقدام میڈیا کے احتساب پر بھی زور دیتا ہے۔


واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ۔ اسرائیل کے مشترکہ فوجی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ شخصیات کی موت ہوگئی تھی۔ اس کے جواب میں ایران نے مشرق وسطی کے کئی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیلی اثاثوں کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرون اور میزائل حملے شروع کر دیے۔ اسرائیل نے بھی تہران پر اپنے حملے جاری رکھے۔ یہ جنگ اب لبنان تک پھیل چکی ہے جہاں حزب اللہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔