20 سالوں میں پہلی بار ’گیٹس فاؤنڈیشن‘ کو عطیہ نہیں دیں گے وارین بفے، ایپسٹین تنازعہ کا اثر
2006 سے اب تک وارین بفے ’گیٹس فاؤنڈیشن‘ کو 47 ارب ڈالر سے زیادہ کے شیئر عطیہ کر چکے ہیں۔ ان کی مجموعی چیریٹی کا سب سے بڑا حصہ ’گیٹس فاؤنڈیشن‘ کو ہی ملا ہے۔

دنیا کے معروف سرمایہ کار وارن بفے نے تقریباً 20 برس میں پہلی بار ’گیٹس فاؤنڈیشن‘ کو دیے جانے والے اپنے سالانہ عطیہ کو فی الحال روک دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بفے اس وقت تک کوئی نیا عطیہ نہیں دیں گے، جب تک فاؤنڈیشن اور اس کے شریک بانی بل گیٹس کے جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق ماضی کے تعلقات کا جائزہ مکمل نہیں ہو جاتا۔ 95 سالہ بفے اس سال برکشائر ہیتھوے کے سی ای او کا عہدہ گریگ ایبل کے حوالے کر چکے ہیں، تاہم وہ اب بھی کمپنی کے چیئرمین ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق وہ سال کے آخر میں اپنے روایتی ’تھینکس گیوینگ‘ (اظہارِ تشکر) پیغام میں اس عطیہ سے متعلق حتمی فیصلہ کر سکتے ہیں۔
بفے کا یہ فیصلہ ان کی کئی برس پرانی روایت سے مختلف ہے۔ وہ ہر سال جون-جولائی کے دوران برکشائر ہیتھوے کے حصص ’گیٹس فاؤنڈیشن‘ اور اپنے خاندان سے وابستہ 4 فلاحی اداروں کو عطیہ کرتے رہے ہیں۔ گزشتہ سال انہوں نے صرف ’گیٹس فاؤنڈیشن‘ کو ہی 4.5 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے حصص عطیہ کیے تھے۔ 2006 سے اب تک وہ اس فاؤنڈیشن کو 47 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے حصص عطیہ کر چکے ہیں۔ ان کی مجموعی خیرات کا سب سے بڑا حصہ بھی گیٹس فاؤنڈیشن کو ہی ملا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مارچ میں سی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بفے نے کہا تھا کہ امریکی محکمۂ انصاف کی دستاویزات (ایپسٹین فائلز) سامنے آنے کے بعد انہوں نے بل گیٹس سے کوئی بات نہیں کی۔ ان دستاویزات میں کہا گیا تھا کہ 2008 میں ایپسٹین کے مجرم قرار دیے جانے کے بعد بھی بل گیٹس نے فلاحی امور کے سلسلے میں اس سے کئی بار ملاقاتیں کی تھیں۔ جب بفے سے پوچھا گیا کہ کیا وہ آئندہ ’گیٹس فاؤنڈیشن‘ کو عطیہ دیں گے، تو انہوں نے کہا کہ ’’میں انتظار کروں گا اور دیکھوں گا کہ آگے کیا ہوتا ہے۔ مجھے اب ایسی باتیں معلوم ہو رہی ہیں جن کے بارے میں پہلے علم نہیں تھا۔‘‘
اس بارے میں ’گیٹس فاؤنڈیشن‘ کا کہنا ہے کہ بل گیٹس اپنی غلطی تسلیم کر چکے ہیں اور ایپسٹین کا فاؤنڈیشن کے کسی فیصلہ یا گرانٹ میں کوئی کردار نہیں تھا۔ دوسری جانب بل گیٹس نے بھی کہا ہے کہ اس سے ملاقات کرنا ایک غلطی تھی اور ان کا تعلق صرف فلاحی کاموں تک محدود تھا۔ انہوں نے جنسی استحصال کی متاثرہ خواتین کے ساتھ وقت گزارنے کے الزامات کی بھی تردید کی ہے۔
بہرحال، بفے نے کہا ہے کہ انہیں اپنے سابقہ عطیات پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے، لیکن انہیں اس بات پر حیرت ہے کہ ایپسٹین نے اتنے بااثر لوگوں کا اعتماد کیسے حاصل کر لیا۔ ان کے مطابق ایپسٹین لوگوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتا تھا اور اس نے کئی افراد کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ بفے نے 2024 میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ ان کے انتقال کے بعد ان کی باقی ماندہ بیشتر دولت ’گیٹس فاؤنڈیشن‘ کو نہیں بلکہ ان کے بچوں کے زیر انتظام ایک فلاحی ٹرسٹ کو دی جائے گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
