ادھر عمان میں اجلاس اختتام پزیر ہوا اور ادھر امریکہ نے ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا
اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ امریکہ ایرانی پیٹرولیم، پیٹرولیم مصنوعات اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی غیر قانونی تجارت میں ملوث 15 اداروں، دو افراد اور 14 شیڈو فلیٹ جہازوں پر پابندی لگا رہا ہے۔

ایران میں مظاہروں کے خلاف حالیہ ایرانی کریک ڈاؤن کے بعد امریکہ کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ایرانی انتظامیہ کے درمیان خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔ اسی دوران عمان میں دونوں ممالک کے نمائندوں کی ملاقات ہوئی اور اس کے فوراً بعد امریکہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کردیا۔
اس کے بعد امریکی محکمہ خارجہ نے ایک سرکاری بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ امریکہ ایرانی پیٹرولیم، پیٹرولیم مصنوعات اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی غیر قانونی تجارت میں ملوث 15 اداروں، دو افراد اور 14 شیڈو فلیٹ جہازوں پر پابندی لگا رہا ہے۔
محکمہ نے کہا کہ ان اہداف سے ریونیو پیدا ہوتا ہے جسے ایرانی حکومت اپنی مذموم سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔ ایرانی حکومت اپنے عوام کی فلاح و بہبود اور تباہ حال انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے دنیا بھر میں عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں اور ملک کے اندر جبر کو تیز کرنے کے لیے مالی اعانت جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ جب تک ایرانی حکومت پابندیوں سے بچتی رہے گی اور تیل اور پیٹرو کیمیکل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو اس طرح کے جابرانہ رویے اور دہشت گردانہ سرگرمیوں اور ان کے پراکسیوں کی حمایت کے لیے استعمال کرتی رہے گی، امریکہ ایرانی حکومت اور اس کے شراکت داروں دونوں کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے کارروائی جاری رکھے گا۔ محکمہ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کے تحت، امریکہ ایرانی حکومت کی غیر قانونی تیل اور پیٹرو کیمیکل برآمدات کو کم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔