800 لوگوں کی اجتماعی پھانسی رکوانے سے متعلق امریکی صدر ٹرمپ کا دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد: ایرانی پراسیکیوٹر

ایران کی عدالتی نیوز ایجنسی ’میزان‘ کے مطابق چیف پراسیکیوٹر محمد مواحدی نے واضح طور پر کہا کہ نہ تو 800 لوگوں کی پھانسی کا کوئی فیصلہ ہوا اور نہ ہی کسی بیرونی مداخلت سے ایسا کچھ روکا گیا۔

ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر یو این آئی
i
user

قومی آواز بیورو

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا بڑا دعویٰ جھوٹا ثابت ہوا ہے۔ ایران میں ملک گیر مظاہروں کے بعد 800 لوگوں کی پھانسی رکوانے کے ٹرمپ کے دعوے کو ایران کے اعلیٰ پراسیکیوٹر نے سرے سے خارج کر دیا ہے۔ ایران کی عدلیہ نے اسے مکمل طور پر فرضی اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔ ایران کی عدالتی نیوز ایجنسی ’میزان‘ کے مطابق اعلیٰ پراسیکیوٹر محمد مواحدی نے واضح طور پر کہا کہ نہ تو 800 لوگوں کی پھانسی کا کوئی فیصلہ ہوا اور نہ ہی کسی بیرونی مداخلت سے ایسا کچھ روکا گیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کا بیان مکمل طور پر جھوٹا ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

پراسیکیوٹر مواحدی نے کیا کہا؟

  • عدلیہ کے پاس 800 لوگوں سے متعلق کوئی آفیشیل اعداد و شمار موجود نہیں ہے۔

  • ٹرمپ کے ذریعہ بتائے گئے اعداد و شمار کا کوئی ریکارڈ عدالتی نظام میں موجود نہیں ہے۔

  • 800 لوگوں کی ایسی کوئی فہرست تیار نہیں کی گئی ہے۔

  • اجتماعی پھانسی سے متعلق کوئی حکم جاری نہیں ہوا ہے۔

  • پھانسی روکنے جیسا کوئی فیصلہ عدلیہ نے نہیں لیا ہے۔

  • ٹرمپ کا دعویٰ مکمل طور سے جھوٹا اور گمراہ کن ہے۔

  • کچھ گرفتار لوگوں پر موت کی سزا سے متعلق الزامات ضرور عائد کیے گئے ہیں۔

  • ان معاملوں پر فیصلہ قانونی طریقہ کار کے تحت ہی ہوگا۔


واضح رہے کہ ایران میں جاری احتجاج کے دواران حالات انتہائی پُرتشدد رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اب تک 50 ہزار سے زائد لوگوں کی موت ہو چکی ہے، ان میں بڑی تعداد مظاہرین کی ہے۔ ہزاوں لوگ زخمی ہوئے ہیں اور تقریباً 26800 سے زائد لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ حکومت نے اپنی جانب سے کم اعداد و شمار بتائے ہیں، لیکن پہلے بھی ایران پر موتوں کی تعداد کم دکھانے کے الزام عائد ہوتے رہے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے اجتماعی پھانسیوں اور پُرامن مظاہرین کے قتل کو ’ریڈ لائن‘ بتاتے ہوئے ایران کو وارننگ دی ہے۔ اسی درمیان امریکہ نے مشرق وسطیٰ کی جانب اپنے جنگی جہاز روانہ کر دیے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ قدم احتیاط کے طور پر اٹھایا گیا ہے۔ حالانکہ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بیان بازی کے باوجود حالات انتہائی حساس بنے ہوئے ہیں اور کسی بھی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔