ڈونالڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم مودی کا اڑایا مذاق

سال 2015 میں افغان پارلیمنٹ کا افتتاح کرتے وقت مودی نے وہاں کے نوجوانوں کے لئے جدید تعلیم کو فروغ دینے کا وعدہ کیا تھا۔

قومی آوازبیورو

افغانستان میں لائبریری کے لئے ہندوستان کے ذریعہ کی جانے والی فنڈنگ کو لے کر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم نریندر مودی کا مذاق اڑایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں لائبریری کے لئے پیسے دینا کسی کام کے نہیں ۔ ٹرمپ نے اس بات کا ذکر ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔ وہ ایسا کہہ کر اپنی اس بات کو صحیح ثابت کرنا چاہتے تھے کہ امریکہ کے ذریعہ دوسرے ممالک میں کم سرمایہ کاری کرنا ٹھیک ہے۔

واضح رہے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ’’ جب میں مودی کے ساتھ تھا تو وہ لگاتار کہتے رہے کہ انہوں نے افغانستان میں ایک لائبریری بنائی ہے ۔ ہم سے امید کی جاتی ہے کہ ہم کہیں کہ اوہ، لائبریری کے لئے شکریہ ، لیکن اس کا وہاں استعمال کون کرے گا ‘‘۔ ٹرمپ کو شائد علم نہیں ہے کہ افغانستان ایک بہت ترقی یافتہ ملک تھا، اس کی تباہی اس وقت سے شروع ہوئی ہے جب سے امریکہ اور سوویت یونین نے اپنی طاقت کے مظاہرہ کے لئے افغانستان کی سر زمین کو میدان جنگ میں تبدیل کر دیا ۔

واضح رہے کہ سال 2001 سے ہندوستان نے کئی ترقیاتی کام افغانستان میں کیے ہیں جس میں اسکول کی تعمیر اور ہندوستان میں افغانی بچوں کے لئے اسکالرشپ وغیرہ ۔سال 2015 میں افغا ن پارلیمنٹ کا افتتاح کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے وہاں کے نوجوانوں کے لئے جدید تعلیم کو فروغ دینے کا وعدہ بھی کیا تھا۔افغانستان کے معاملہ میں ہندوستان اور امریکہ کا رویہ ہمیشہ مثبت رہا ہے لیکن ٹرمپ نے جس طرح وزیر اعظم نریندر مودی کا مذاق اڑایا ہے اس کی سخت الفاظ میں تنقید کی جانی چاہیے ۔ وزیر اعظم کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ کون ہندوستان کا دوست ہے اور کون دشمن ، کیونکہ باہر کے ممالک میں جب اپنے ملک کے ماضی کی حکومتوں کی تنقید کریں گے اور ملک کو چھوٹا دکھانے کی کوشش کریں گے تو ٹرمپ جیسے قائدین کو بولنے کا موقع تو ملے گا ہی۔