ٹرمپ کو اقتدار سے بےدخل کرنے کےلئے 25 ویں ترمیم کو نافذ کرنےپر غور

کچھ کابینہ ممبران اور دیگر ریپبلکن رہنماوں نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو اقتدارسے ہٹانے کے لئے 25 ویں ترمیم کو نافذ کرنے کے تناظر میں تبادلہ خیال کرنا شروع کر دیا ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

کل امریکہ کی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں واقع کیپٹل ہل پر جس طرح کا تشدد دیکھنے کو ملا اس نے امریکہ کو ہی نہیں پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اس کی وجہ سے ٹرمپ کے خلاف غصہ بڑھ رہا ہے۔ اب امریکی انتظامیہ کے کچھ کابینہ ممبران اور دیگر ریپبلکن رہنماوں نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو اقتدارسے ہٹانے کے لئے 25 ویں ترمیم کو نافذ کرنے کے تناظر میں تبادلہ خیال کرنا شروع کر دیا ہے۔ سی این این نے قابل اعتماد ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں یہ معلومات دی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ کابینہ کے ممبران اور ریپبلکن رہنماوں نے 25 ویں ترمیم کو نافذ کرنے کے بارے میں بدھ کو تبادلہ خیال کیا۔ اس ترمیم کے ذریعہ مسٹر ٹرمپ کو اقتدارسے ہٹانے اور نائب صدر مائک پینس کو چارج سونپنے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔

اس ترمیم کو نافذ کرنے میں جو سب سے بڑی رکاوٹ ہے وہ ہے دو تہائی ارکان کی حمایت جس کے لئے بڑی تعداد میں ریپبلیکن رہنماؤں کی حمایت درکار ہوگی۔ اگر اس ترمیم پر عمل ہو جاتا ہے تو نہ صرف صدر ٹرمپ کو وقت سے پہلے صدارت کے عہدے سےہٹنا پڑےگا بلکہ وہ آئندہ کےلئے بھی صدر کے عہدے کے لئے انتخاب لڑنے کے اہل نہیں رہیں گے۔

قابل ذکر ہے کہ امریکہ کے واشنگٹن میں کل ہزاروں کی تعداد میں ٹرمپ حامیوں نے سی نیٹ کا محاصرہ کرنے کی کوشش کی اور نعرے بازی کرتے ہوئے سی نیٹ میں داخل ہوکر کئی حصوں پر قبضہ بھی کیا ۔ اسی دوران بھڑکے تشدد میں ایک خاتون کی موت ہوگئی ہے، جبکہ پولیس کے ساتھ جھڑپ میں کئی مظاہرین زخمی بھی ہوئے ہیں۔ پولیس نے 13 مظاہرین کو گرفتار کرنے کے ساتھ ہی کچھ ہتھیار بھی برآمد کئے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلیگرام پر پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next