وینزویلا پر امریکی حملہ کے خلاف اقوام متحدہ نے اٹھائی آواز، مادورو کی گرفتاری پر گٹیرس کا اظہارِ تشویش

اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری انٹونیو گٹیرس نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ مادورو کی گرفتاری میں بین الاقوامی قوانین اور یو این چارٹر کا احترام نہیں کیا گیا۔

اقوام متحدہ، تصویر آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری انٹونیو گٹیرس نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری پر اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے اس معاملے میں کھل کر امریکہ کی مخالفت کی ہے۔ جس کارروائی سے امریکہ نے پوری دنیا کو اپنے طاقتور ہونے کا پیغام دیا ہے، اس پر اب اقوام متحدہ میں سوال اٹھنے شروع ہو گئے ہیں۔

اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی میٹنگ میں انٹونیو گٹیرس نے واضح لفظوں میں کہا کہ مادورو کی گرفتاری وینزویلا ہی نہیں، پورے علاقے کو مستحکم کر سکتی ہے اور یہ بین الاقوامی سیاست میں ایک خطرناک مثال بن سکتی ہے۔ گٹیرس کا یہ سخت رخ ظاہر کرتا ہے کہ اس بار اقوام متحدہ چیف نے امریکہ کے سامنے بھی ’ریڑھ کی ہڈی‘ دکھانے سے پرہیز نہیں کیا۔


انٹونیو گٹیرس نے اس بات پر اپنی فکر کا اظہار کیا ہے کہ نکولس مادورو کی گرفتاری کے دوران بین الاقوامی قوانین اور یو این چارٹر کا احترام نہیں کیا گیا۔ امریکہ نے اپنے دفاع میں یو این چارٹر کے شق 51 کا حوالہ دیا، جو اپنی حفاظت کے حق کی بات کرتا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ قبل میں روس، چون اور کولمبیا نے بھی امریکہ کی کارروائی کو ناجائز قرار دیا تھا۔ یعنی وینزویلا پر حملہ اور مادورو کی گرفتاری سے متعلق امریکہ کے خلاف آوازیں بلند ہونی شروع ہو گئی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ امریکہ اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل میں کسی بھی کارروائی کو ویٹو کر سکتا ہے، کیونکہ وہ مستقل رکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سخت تنقید کے باوجود اقوام متحدہ کے ہاتھ بندھے نظر آئے۔ مادورو اور ان کی بیوی فی الحال نیویارک کی عدالت میں پیش ہو چکے ہیں۔ پوری دنیا کی نظر اس سماعت اور اس کے بعد مادورو کے ذریعہ دیے گئے بیان پر مرکوز رہیں۔ مادورو نے پیشی کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ ’’میں ایک جنگی قیدی ہوں، اور وینزویلا کا صدر ہوں۔‘‘


بہرحال، اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر مائک والٹز نے کہا کہ مادورو اور ان کی بیوی کی گرفتاری ایک محدود اور مستعد لاء انفورسمنٹ کارروائی تھی، جسے امریکی فوج کی حمایت ملی۔ انھوں نے مزید کہا کہ وینزویلا یا اس کے لوگوں کے خلاف امریکہ کوئی جنگ نہیں کر رہا ہے، اور نہ ہی ہم کسی ملک پر قبضہ کر رہے ہیں۔ امریکہ کی دلیل ہے کہ وہ مغربی نصف کرہ کو اپنے دشمنوں کا اڈہ نہیں بننے دے گا اور دنیا کے سب سے بڑے تیل ذخیرہ کو کسی ناجائز قیادت کے ہاتھوں میں نہیں چھوڑا جا سکتا۔ دوسری طرف وینزویلا کے اقوام متحدہ سفیر سیموئل مونکاڈا نے امریکہ کی کارروائی کو بغیر کسی قانونی بنیاد کے مسلح حملہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے ادارے معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں، آئین قائم ہے اور حکومت کا پورے ملک پر کنٹرول ہے۔ انھوں نے امریکہ پر خود مختار کی خلاف ورزی کا سنگین الزام بھی عائد کیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔