اقوام متحدہ شدید مالی بحران کا شکار، عملہ کی تنخواہ کا انتظام بھی مشکل!

اقوام متحدہ جنرل سکریٹری اینٹونیو گٹیریس نے عالمی ادارہ میں ایک بار پھر مالی بحران پیدا ہونے کی بات کہی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس مہینے کے آخر میں اقوام متحدہ کا فنڈ ختم ہوجائے گا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

اقوام متحدہ کے 193 اراکین میں سے صرف 128 اراکین نے ہی 3 اکتوبر تک اپنے بقایہ کی ادائیگی کی ہے۔ مبینہ طور پر انھوں نے اقوام متحدہ کے ملازمین کو آگاہ کیا ہے کہ ادارہ کو اپنے بجٹ میں 23 کروڑ ڈالر کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اقوام متحدہ کا سال کا معینہ بجٹ 5.4 ارب ڈالر ہے جو کہ امن قائم کرنے پر خرچ ہونے والے 6.5 ارب ڈالر کے بجٹ سے الگ ہے۔

ہندوستان نے معینہ بجٹ میں اپنے حصے کا 232.5 لاکھ ڈالر 30 جنوری کو ہی ادا کیا ہے۔ ہندوستان اقوام متحدہ کے ان کچھ رکن ممالک میں شامل ہے جس نے وقت پر ادائیگی کی ہے۔ جن ممالک پر بقایہ ہے انھوں نے اگر اس مہینے اور پیسے نہیں دیئے تو اقوام متحدہ کو اپنی جمع پونجی میں سے غیر مستقل طور پر خرچ کرنا پڑے گا۔

اقوام متحدہ کے پاس پیسے کی کمی کا ایک سبب امریکہ ہے جس نے اپنے بقایہ کی ادائیگی نہیں کی ہے۔ امریکہ اقوام متحدہ کے معینہ بجٹ میں 22 فیصد کی ادائیگی کرتا ہے۔ سال کے شروع میں رکن ممالک کے ذریعہ بقایہ کی ادائیگی نہیں کرنے کی وجہ سے اقوام متحدہ کو مدتی بجٹ کے بحران سے نبرد آزما ہونا پڑ رہا ہے۔ پوری رقم کی ادائیگی کرنے والے ممالک کی تعداد اس سال گزشتہ سال کے مقابلے کافی کم ہو گئی ہے۔

صرف 127 رکن ممالک نے ہی اس سال اپنا تعاون ستمبر کے آخر تک جمع کیا ہے، جب کہ گزشتہ سال اس مدت تک 141 ممالک نے اپنے تعاون کی رقم کی ادائیگی کی تھی۔ گٹیریس نے جنرل اسمبلی کی بجٹ کمیٹی کو مئی میں مطلع کیا تھا کہ ’’ہم نازک حالت میں ہیں اور ہم آگے کیا کریں گے، وہ آئندہ سالوں کی بات ہوگی۔‘‘ اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندہ سید اکبرالدین نے بار بار اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ اس سے اقوام متحدہ کے امن قائم کرنے کے کاموں میں تعاون کرنے والے ممالک پر اثر پڑے گا۔

سکریٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے خبردار کیا ہے کہ عالمی ادارہ اقوام متحدہ شدید مالی بحران کا شکار ہے اور اگر رکن ممالک نے اپنے واجبات ادا نہیں کیے تو اقوام متحدہ کے عملہ کے لئے نومبر کی تنخواہ کے انتظامات مشکل ہوجائیں گے۔

Published: 9 Oct 2019, 11:08 AM