اقوام متحدہ کے سربراہ کی ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کی اپیل
اقوام متحدہ کے ترجمان کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ یو این سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایران اور امریکہ سے اس تنازعہ کے مستقل حل کے لیے بات چیت دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے ایران اور امریکہ کے مابین دوبارا مذاکرات شروع کیے جانے کی اپیل کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ یو این سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایران اور امریکہ سے اس تنازعہ کے مستقل حل کے لیے بات چیت دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ’سنہوا‘ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پیر کے روز ایران-امریکہ کے درمیان 17 جون کو ہونے والے معاہدے (ایم او یو) کے تحت بات چیت کے ذریعے حتمی ڈیل کے لیے مقررہ 60 دنوں کی مدت ختم ہونے پر اقوام متحدہ کے سربراہ کے پیغام کے بارے میں پوچھے جانے پر ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا کہ انتونیو گوتریس چاہتے ہیں کہ بات چیت دوبارہ شروع ہو۔
اسٹیفن دوجارک نے کہاکہ ’’ان کا پیغام وہی ہے، جو وہ شروع سے دیتے آ رہے ہیں کہ اس تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ انہوں نے ایران اور امریکہ سے اپیل کی کہ وہ جلد از جلد پرامن اور پائیدار حل کے لیے بات چیت دوبارہ شروع کریں، تاکہ فوجی کارروائی سے بچا جا سکے اور حالیہ دنوں میں سنائی دینے والی تلخ بیان بازی کو بھی کم کیا جا سکے۔‘‘ معاہدے میں امریکہ اور ایران نے زیادہ سے زیادہ 60 دنوں میں بات چیت کرکے حتمی ڈیل تک پہنچنے کا وعدہ کیا تھا، جسے باہمی رضامندی سے بڑھایا جا سکتا تھا۔ اس دوران فریقین کے درمیان بات چیت کی 60 دنوں کی مدت ختم ہونے پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ تو کرنا چاہتا ہے، لیکن وہ اس طرح کی ڈیل قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، جسے وہ ضروری سمجھتے ہیں۔
ٹرمپ نے پیر کے روز (امریکی مقامی وقت کے مطابق) وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے کہا کہ ’’وہ ڈیل کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ اس طرح کی ڈیل نہیں کریں گے، جسے میں ضروری سمجھتا ہوں۔‘‘ ٹرمپ نے بات چیت کی صورتحال سے متعلق کوئی معلومات نہیں دیں، لیکن دہرایا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا واشنگٹن کا مقصد بنا ہوا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’’آپ سمجھتے ہیں کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوسکتے، اور ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے اور یہ بہت آسان ہے۔ وہ جوہری جنگ نہیں کر سکتے۔‘‘
ٹرمپ کی جانب سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ تمام ایرانی بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی کے ذریعے آبنائے ہرمز پر امریکہ کا مکمل کنٹرول ہے، اور انہوں نے بار بار اسے امریکہ کا علاقہ بنانے کی بات کہی۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’’ہم ناکہ بندی کے ذریعے اسے (آبنائے ہرمز) کنٹرول کرتے ہیں، اور اسے اپنا علاقہ قرار دینے کا خیال اچھا لگتا ہے۔ اب آبنائے ہرمز پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے۔‘‘ عمان کے بارے میں اپنی گزشتہ وارننگ کے حوالے سے (جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کو کھولنے اور آبی راستے کو دونوں ممالک کے کنٹرول میں رکھنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے)۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’’مجھے نہیں لگتا کہ ان کا رویہ بہت اچھا رہا، لیکن ہم ان سے بہت آسانی سے نمٹ لیں گے، بالکل اسی طرح جیسے ہم دوسروں کے ساتھ پیش آتے رہے ہیں۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
