یوکرین کی نیٹو رکنیت پر فی الحال نہیں کیا جا رہا ہے غور: مارکو روبیو

مارکو روبیو نے کہا کہ جیسا آپ جانتے ہیں، ابھی یوکرین کی نیٹو رکنیت پر کوئی بات نہیں ہو رہی ہے، کیونکہ اس کے لیے اتفاق رائے قائم کرنے کے عمل سے گزرنا ضروری ہے۔

<div class="paragraphs"><p>مارکو روبیو، ویڈیو گریب</p></div>
i

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ فی الحال یوکرین کی ’نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن‘ (نیٹو) کی رکنیت پر غور نہیں کیا جا رہا ہے، کیونکہ امریکہ روس کے ساتھ جنگ ختم کرنے کی کوششوں پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ روبیو نے اس جنگ کے آگے بڑھنے کے طریقے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن حالات کے ’ٹرینڈ‘ پر نظر رکھ رہا ہے اور ایسا نہیں لگ رہا کہ جنگ ختم ہونے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ روبیو نے کہا کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ابھی یوکرین کی نیٹو رکنیت پر کوئی بات نہیں ہو رہی ہے، کیونکہ اس کے لیے اتفاق رائے قائم کرنے کے عمل سے گزرنا ضروری ہے۔

مارکو روبیو ریکیاوک میں آئس لینڈ کی وزیر خارجہ تھورگیردور کیٹرین گنارسڈوٹیر کے ساتھ ایک جوائنٹ میڈیا بریفنگ میں خطاب کر رہے تھے۔ جب یوکرین کے نیٹو میں شامل ہونے کے بارے میں ان کی رائے پوچھی گئی تو روبیو نے کہا کہ اس کا براہ راست ہاں یا نہیں میں جواب نہیں ہے۔ روبیو نے کہا کہ ابھی ہماری پوری توجہ یوکرین کے معاملے میں اس جنگ کو ختم کرنے پر ہے، اگر ایسا ممکن ہو تو۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ ہم نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر اس جنگ کو ختم کرنے میں ہم کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں تو ہم مثبت کردار ادا کرنا چاہیں گے۔


روبیو نے اشارہ دیا کہ واشنگٹن موجودہ حالات سے متعلق فکرمند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم واضح طور پر وہاں کے حالات کے ٹرینڈ پر نظر رکھ رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ فی الحال معاملہ اس سمت میں آگے نہیں بڑھ رہا ہے۔‘‘ انہوں نے یہ باتیں ایک ایسی گفتگو کے دوران کہیں، جس میں یوکرین کے علاوہ آرکٹک اور ’ہائی نارتھ‘ علاقوں میں بڑھتی ہوئی سلامتی کی تشویشات پر بھی بات ہوئی۔ روبیو نے کہا کہ بین الاقوامی سلامتی کے بدلتے ماحول نے اس علاقے کی جانب واشنگٹن کی توجہ دوبارہ مبذول کرائی ہے۔ یہ 2006 میں آئس لینڈ میں طویل عرصے سے موجود امریکی فوج کو کہیں اور منتقل کیے جانے کے بعد ہوا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ 20 برسوں میں دنیا بدل گئی ہے۔ ہماری توجہ بھی بدل گئی ہے۔ اب آرکٹک پر بہت زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ روبیو نے آئس لینڈ کو یورپ اور امریکہ، دونوں کی سلامتی کے لیے اسٹریٹجک طور پر اہم قرار دیا، کیونکہ اس کی جغرافیائی حیثیت خاص ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ریکیاوک کے ساتھ مزید تعاون پر بات چیت کے لیے تیار رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ اپنی جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے آئس لینڈ اور اس کا محل وقوع یورپ اور امریکہ، دونوں کی سلامتی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سکریٹری آف اسٹیٹ نے کہا کہ ’ہائی نارتھ‘ میں سلامتی سے متعلق خدشات صرف روایتی فوجی خطرات تک محدود نہیں ہیں۔ انہوں نے خفیہ سرگرمیوں، سمندر کے نیچے بچھائی گئی کیبلوں اور شپنگ لین کو لاحق خطرات اور قومی سلامتی سے متعلق اقتصادی و کاروباری چیلنجز کا ذکر کیا۔