جنگ میں پھنسے ٹرمپ کو مشکل میں ڈالنے والی 2 نئی خبریں آئیں سامنے، بڑھنے والی ہے سیاسی ہلچل
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کے پاس ایپسٹین فائلز سے متعلق 6 لاکھ دستاویزات ہیں، جن میں سے اب تک 3 لاکھ ہی جاری کیے گئے ہیں۔ عدالت کی ہدایت کے بعد مزید 3 لاکھ دستاویزات جاری ہوں گی۔

ایران کے ساتھ جنگ میں پھنسے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے لیے مشکلیں بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ مشکلات بڑھنے کی وجہ ایران کے جوابی حملے تو ہیں ہی، اب 2 مزید بری خبریں سامنے آ رہی ہیں جو سیاسی ہلچل کو بھی بڑھانے والی ہیں۔ پہلی خبر یہ ہے کہ امریکی محکمہ انصاف ایپسٹین فائلز سے منسلک 50 ہزار غائب دستاویزات کو تلاش کر جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ صدر ٹرمپ کے لیے پریشان کرنے والی خبر ہے، کیونکہ دعویٰ یہی کیا جا رہا ہے کہ غائب دستاویزات میں ٹرمپ کا ہی نام ہے۔
دوسری خبر حکومت کے اٹارنی جنرل پام بونڈی کا بیان درج ہونا ہے۔ بونڈی پر غائب دستاویزات کو لے کر گمراہ کرنے کا الزام ہے۔ ان کا بیان سرکردہ کانگریس کمیٹی کے سامنے درج ہونا ہے۔ بونڈی کمیٹی کے سامنے وہ راز اگل سکتی ہیں جو اب تک منظرنامہ سے غائب بتائے جا رہے ہیں۔ ظاہر ہے ڈونالڈ ٹرمپ کے لیے یہ مشکل میں ڈالنے والا ثابت ہو سکتا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کے پاس ایپسٹین فائلز سے متعلق مجموعی طور پر 6 لاکھ دستاویزات ہیں۔ ان میں سے اب تک 3 لاکھ دستاویزات ہی جاری کیے گئے ہیں۔ عدالت کی ہدایت کے بعد محکمہ انصاف کو 3 لاکھ مزید دستاویزات جاری کرنے ہیں۔ اب محکمہ انصاف نے تقریباً 50 ہزار دستاویزات کو جاری کرنے کی تیاری کر لی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جو دستاویزات جاری ہونے والے ہیں، اسے پہلے غائب بتایا جا رہا تھا۔ لیکن امریکی کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ کی سخت کے بعد محکمہ انصاف نے اسے جاری کرنے کے لیے پیش قدمی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگلے ہفتہ تک ان سبھی دستاویزات کو جاری کیا جا سکتا ہے۔ ایپسٹین فائلز کے ان دستاویزات کو اس لیے بھی اہم تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ ان میں صدر ٹرمپ کو لے کر بھی دستاویز ہونے کا امکان ہے۔ ٹرمپ ایک وقت میں جنسی استحصال کے مجرم جیفری ایپسٹین کے دوست تھے۔
قابل ذکر ہے کہ پام بونڈی اب تک کچھ بھی انکشاف نہیں کر رہی تھیں، لیکن اب امریکی ہاؤس نے بونڈی کو نوٹس بھیجا ہے۔ ہاؤس میں باقاعدہ اس تعلق سے ووٹنگ بھی ہوئی، جس میں 24 اراکین نوٹس بھیجنے کے حق میں تھے۔ 19 اراکین بونڈی سے سوال پوچھنے کو مناسب نہیں سمجھتے تھے، لیکن یہ تعداد کم پڑ گئی۔ اب بونڈی کو کمیٹی کےس امنے پیش ہونا پڑے گا۔ وہاں پر انھیں ہر ان سوالات کے جواب دینے ہوں گے، جو ان سے پوچھے جائیں گے۔ جواب نہ دینے پر ان کے خلاف کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔