دیگر ممالک

میں نے روس کے لیے کبھی کام نہیں کیا: ڈونلڈ ٹرمپ

کچھ رپورٹس کی اشاعت کے بعد امریکی صدر ڈونالدد ٹرمپ کو صحافیوں کے سامنے آ کر اس بات کی وضاحت کرنا پڑی کہ انہوں نے کبھی روس کے لئے کام نہیں کیا

سوشل میڈیا 

قومی آوازبیورو

ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے کبھی روس کے لیے کام نہیں کیا اور انھیں یہ وضاحت بعض دھماکا خیز رپورٹس کی اشاعت کے بعد کرنا پڑی ہے جن میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ان کے کریملن کے ساتھ تعلقات رہے ہیں۔

انھوں نے پیر کو وہائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ میں نے کبھی روس کے لیے کام نہیں کیا اور آپ لوگ اس کے بارے میں زیادہ بہتر جانتے ہیں‘‘۔انھوں نے صحافیوں سے مخاطب ہوکر کہا: ’’ یہ بات ہی شرمناک ہے کہ آپ اس طرح کا سوال کررہے ہیں۔یہ تو ایک بہت بڑا مذاق ہے۔‘‘َ

صدر ٹرمپ نے اپنے اس غیظ وغضب کا اظہار نیویارک ٹائمز میں ایک رپورٹ کی اشاعت کے بعد کیا ہے۔اس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے حوالے سے یہ کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے جب 2017ء میں بیورو کے ڈائریکٹر کو برطرف کیا تھا تو اس وقت شاید وہ رو س کے ایما ء پر اقدام کررہے تھے۔

واشنگٹن پوسٹ نے الگ سے ایک رپورٹ شائع کی ہے اور اس میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے جب روسی صدر ولادی میر پوتین سے ملاقات کی تھی تو انھوں نے ان کے ساتھ اپنی گفتگو کی اپنے قریبی مصاحبین کو بھی بھنک نہیں پڑنے دی تھی اور اس غیر معمولی احتیاط پر انھوں نے خود ہی دوسروں کو تشویش میں مبتلا کردیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ یہ سب ایک جعلی خبر ہے‘‘۔انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ’’ میں نے ان تمام لیڈروں سے ون آن ون ملاقاتیں کی تھیں۔میرے قریب قریب ہر عالمی رہنما سے تعلقات ہیں۔یہ ایک اچھی چیز ہے اور یہ کوئی بری چیز نہیں ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ تب ایف بی آئی کے جن لیڈروں نے میرے خلاف تحقیقات کا فیصلہ کیا تھا، وہ جانے پہچانے گُرگے تھے۔میں یہ اندازہ کرسکتا ہوں کہ آپ انھیں گندے اہلکار قرار دے سکتے ہیں‘‘۔

تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ایف بی آئی کی ان تحقیقات کا حاصل کیا رہا تھا اور اِس وقت یہ تحقیقات کس مرحلے میں ہیں۔صدر ٹرمپ خصوصی پراسیکیوٹر رابرٹ میولر کی قیادت میں ایک بڑی تحقیقات کا بھی مرکزی کردار ہیں۔ رابرٹ میولر ان الزامات کی تحقیقات کررہے ہیں کہ کریملن نے امریکا میں 2016ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے کام کیا تھا اور اس کی ٹرمپ کی صدارتی مہم سے بھی کوئی ساز باز تھی۔

(العربیہ ڈاٹ نیٹ)