جنوبی امریکی ممالک پر قبضے کی تیاری میں ٹرمپ، وینزویلا کے بعد کیوبا کو بھی دھمکی

امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کیوبا کے رہنما کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’’وینزویلا کے صدر کی گرفتاری کے بعد اگر میں کیوبا کی حکومت میں ہوتا تو یقیناً مجھے تشویش ہوتی۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>مارکو روبیو، ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

وینزویلا کے صدر مادورو کو گرفتار کرنے کے بعد اب امریکہ کی ٹرمپ حکومت کے حوصلے بلند ہیں اور اب اس نے جنوبی امریکہ کے دیگر ممالک کو بھی دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں۔ امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کیوبا کے رہنما کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’’وینزویلا کے صدر کی گرفتاری کے بعد اگر میں کیوبا کی حکومت میں ہوتا تو یقیناً مجھے تشویش ہوتی۔‘‘

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’کیوبا پوری طرح سے تباہ ہے۔ اسے مکمل طور سے نااہل حکومت اور ایک بوڑھا آدمی چلا رہا ہے۔ اس کی کوئی معیشت باقی نہیں رہی، یہ مکمل طور سے تباہ ملک ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’مادورو کی سیکورٹی میں تعینات تمام گارڈز بھی کیوبا کے تھے۔ کیوبا نے کچھ معاملوں میں وینزویلا پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ کیوبا نے وینزویلا کو اپنی کالونی بنانے کی کوشش کی۔ اگر ہم سیکورٹی کے لحاظ سے دیکھیں تو اگر میں ہوانا میں رہا ہوتا اور میں سرکار میں ہوتا تو میں صورت حال سے تھوڑا فکرمند ضرور ہوتا۔‘‘


واضح رہے کہ امریکہ اور کیوبا کے درمیان رشتے دہائیوں سے کشیدہ ہیں۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی 1960 کی دہائی سے ہے، جب فیڈل کاسترو کی حکومت کے ساتھ امریکہ کے تعلقات خراب ہوئے اور امریکہ نے کیوبا پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ براک اوباما کے دور میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش ہوئی تھی، لیکن ٹرمپ اور بائیڈن حکومت میں پھر سے تعلقات کشیدہ ہو گئے۔

غورطلب ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی کیوبا پر تنقید کرتے ہوئے اسے ایک ناکام ملک قرار دیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ کیوبا کے شہریوں اور کیوبا چھوڑ چکے لوگوں کی مدد کرنا امریکہ کا مقصد ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ کیوبا ایک دلچسپ معاملہ ہے۔ کویبا کی صورتحال اچھی نہیں ہے۔ کیوبا کے لوگ سالوں سے پریشانی جھیل رہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ کیوبا ایک ایسا مسئلہ ہے، جس پر ہم آگے چل کر بات کریں گے کیونکہ کیوبا ایک ناکام ملک ہے۔ ہم کیوبا کے لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔


قابل ذکر ہے کہ امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک مشترکہ آپریشن کے ذریعے 3 جنوری کو وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو گرفتار کیا اور انہیں امریکہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ امریکہ کی اٹارنی جنرل پام بونڈی نے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’’دونوں کو منشیات کی اسمگلنگ اور نارکو ٹیررازم (منشیات سے متعلق دہشت گردی) کی سازش رچنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔