زلزلے کے جھٹکوں سے ایک بار پھر لرز اٹھا تبت، ریکٹر اسکیل پر شدت 4.5 درج

22 اکتوبر کی رات کو بھی تبت میں 7.0 شدت کا زلزلہ آیا تھا۔ اس سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے، اب تک 16 افراد کی موت ہو چکی ہے، جبکہ 65 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>زلزلہ / علامتی تصویر / آئی اے این ایس</p></div>
i

تبت میں ہفتہ کی صبح تقریباً 5:38 بجے (ہندوستانی وقت کے مطابق) 4.5 شدت کا زلزلہ آیا۔ علی الصبح زلزلے کے جھٹکوں سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی نے یہ اطلاع دی ہے۔ اس سے قبل جمعرات (22 اکتوبر) کی رات کو بھی تبت میں 7.0 شدت کا زلزلہ آیا تھا۔ اس زلزلے سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے، اب تک 16 افراد کی موت ہو چکی ہے، جبکہ 65 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ زلزلہ رات میں تقریباً  10:33 بجے آیا تھا۔ اس کا مرکز شمالی تبت کے ناگچو شہر کے باچن کاؤنٹی علاقے میں بتایا جا رہا ہے۔ زلزلے کے بعد 12 ہزار سے زیادہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ تبت کے ناگچو علاقے میں آئے تباہ کن زلزلے میں جان گنوانے والوں کی روح کے سکون کے لیے تبتی یوتھ کانگریس (ٹی وائی سی) نے دھرم شالہ کے میکلوڈ گنج میں موم بتیاں جلا کر (کینڈل لائٹ) ایک دعائیہ تقریب منعقد کی۔ اس تقریب میں ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور سوگوار خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔


زلزلے کے دوران لوگ اپنی جان بچانے کے لیے عمارتوں سے باہر بھاگتے دکھائی دیے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں لوگوں کو عمارتوں سے باہر نکلتے اور کئی مقامات پر ملبہ گرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ چین کے زلزلہ مانیٹرنگ سنٹر کے مطابق 22 اکتوبر کو آئے زلزلے کے بعد اب تک 413 زلزلے کے چھوٹے جھٹکے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ چائنا ارتھ کوئیک نیٹورکس سینٹر کے مطابق زلزلے کا مرکز ناگچو کے باچن کاؤنٹی علاقے میں زمین سے تقریباً 10 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔ واضح رہے کہ ناگچو شمالی تبت کا ایک بلند پہاڑی علاقہ ہے۔ یہاں آبادی کم ہے اور یہ تبت کی راجدھانی لہاسا سے تقریباً 400 کلومیٹر دور واقع ہے۔